پاکستان پرحملہ بھارت کے لیے تباہ کن ہوگا،سابق بھارتی جنرل کاانتباہ
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
نئی دہلی (نیوز ڈیسک) بھارت کے ایک سینیئر ریٹائرڈ جنرل نے پاکستان کے خلاف طاقت کے استعمال کے خطرناک نتائج سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت نے طاقت کے زور پر پاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کی، تو اسے جانی و مالی طور پر ناقابلِ تصور نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔
جنرل کے مطابق، جنگ کسی بھی صورت میں ایک قابلِ عمل راستہ نہیں ہے، کیونکہ بھارت کی معیشت پہلے ہی مشکلات سے دوچار ہے۔ “ہم 80 کروڑ لوگوں کو راشن دے رہے ہیں، بیروزگاری، پانی کی قلت، اور پسماندہ انفراسٹرکچر جیسے مسائل درپیش ہیں—ایسے حالات میں جنگ ملک کو کئی دہائیاں پیچھے دھکیل دے گی،” انہوں نے کہا۔
کارگل جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے جنرل نے کہا کہ اپنے ہی علاقے میں لڑتے ہوئے بھارت نے 529 فوجیوں کی جان گنوائی اور ہزاروں زخمی ہوئے۔ “اگر پورے پاکستانی زیر انتظام کشمیر (POK) کو طاقت سے حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کے نتائج خوفناک ہوں گے۔”
چین کے ساتھ لداخ میں جھڑپوں پر تبصرہ کرتے ہوئے جنرل نے اعتراف کیا کہ بھارت اُس وقت چینی ارادوں کو سمجھنے میں ناکام رہا، جس کا نتیجہ 20 بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کی صورت میں نکلا۔ “ہمیں اس خطرے کو پہلے ہی بھانپ لینا چاہیے تھا،” انہوں نے افسوس کا اظہار کیا۔
جنرل نے کہا کہ سیاستدان شاید ووٹ کے لیے جنگی بیانیہ اپنائیں، لیکن ایک پیشہ ور سپاہی بخوبی جانتا ہے کہ جنگ تباہی لاتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ چین کا فوکس عسکری قبضے پر نہیں بلکہ تجارتی اثرورسوخ پر ہے، اور وہ Belt and Road Initiative جیسے منصوبوں کے ذریعے عالمی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔
انہوں نے بھارت کی فلمی سافٹ پاور کی چین میں ناکامی کا بھی ذکر کیا، اور کہا کہ بھارت کو اب ٹیکنالوجی اور توانائی کے شعبے، خاص طور پر سولر انرجی، میں سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے—جہاں چین دنیا میں سب سے آگے ہے۔
جنرل کا آخری پیغام واضح تھا: “اگر ہمیں خطے میں امن اور ترقی چاہیے، تو جنگ نہیں، بلکہ معیشت، سافٹ پاور اور دانشمندی ہی ہمارا راستہ ہونی چاہیے۔”
Post Views: 1.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔