جاپان کا نیپون گروپ پنجاب میں لیتھیئم بیٹریاں بنانے کا کارخانہ لگائے گا،سی آی او نیپون گروپ کی شافع حسین سے ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2025ء)صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین سے جاپان کے نیپون گروپ کے سی ای او میچیٹیک یاماموٹو نے پیسک ہاؤس میں ملاقات کی جس میں پنجاب میں سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت ہوئی۔ جاپان کے نیپون گروپ کے سی ای او نے بتایا کہ ہمارانیپون گروپ پنجاب میں پہلے مرحلے میں لیتھیئم بیٹریوں کا اسمبلنگ پلانٹ اور دوسرے مرحلے میں مینوفیکچرنگ پلانٹ لگائے گا جس کیلئے نیپون گروپ کو 2ایکڑ اراضی درکار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم یہاں لیتھیئم بیٹریاں تیار کرکے مقامی مارکیٹ کو فراہم کرنے کے ساتھ دیگر ممالک کو برآمد بھی کریں گے۔صوبائی وزیر صنعت و تجارت چوہدری شافع حسین نے جاپان کے نیپون گروپ کو پنجاب میں سرمایہ کاری پر ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کا بہترین وقت اور سازگار ماحول موجود ہے۔(جاری ہے)
انہوں نے کہا کہ جاپان کا نیپون گروپ لیتھیئم بیٹریاں بنانے کا کارخانہ لگائے،ہرممکن سہولت دیں گے۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ الیکٹرک وہیکلز سیکٹر میں سرمایہ کاری کی وسیع گنجائش موجود ہے اس لئے جاپان کا نیپون گروپ ای وی سیکٹر میں بھی سرمایہ کاری کرسکتا ہے۔جاپان کے سرمایہ کار پنجاب میں ای وی چارجنگ کا اسمبلنگ پلانٹ لگانے کا بھی جائزہ لیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکٹرک وہیکلز سیکٹر کا فروغ پنجاب حکومت کی پہلی ترجیح ہے۔ جاپان کا نیپون گروپ پنجاب میں اے آئی سافٹ ویئر ہاؤس بنانے کا بھی جائزہ لے۔ پنجاب کے سپیشل اکنامک زونز میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کو خصوصی مراعات حاصل ہیں یہاں سرمایہ کاری پر 10سال تک انکم ٹیکس کی چھوٹ اور ایک مرتبہ ڈیوٹی فری مشینری درآمد کی سہولت موجود ہے اس لئے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار پنجاب کو سرمایہ کاری کیلئے ترجیح دے رہے ہیں۔جاپان کے سرمایہ کار پنجاب میں کھلے دل سے سرمایہ کاری کریں،حکومت مکمل سپورٹ فراہم کرے گی۔ ڈی جی پنجاب سرمایہ کاری بورڈ ڈاکٹر سہیل احمد،سی ای او پیڈمک اور دیگر بھی ملاقات میں موجود تھے۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے میں سرمایہ کاری جاپان کے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔