یوٹیوبر رجب بٹ کا لندن میں پاسپورٹ چوری، عارضی دستاویزات پر وطن واپسی
اشاعت کی تاریخ: 3rd, May 2025 GMT
لاہور(شوبز ڈیسک)معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کا لندن میں پاسپورٹ چوری ہوگیا جس کے بعد وہ عارضی سفری دستاویزات پر پاکستان واپسی کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔
ذرائع کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب رجب بٹ نے اپنی گاڑی ایک پارکنگ ایریا میں کھڑی کی اور بیگ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر واضح طور پر رکھا ہوا تھا۔ چوروں نے مبینہ طور پر گاڑی کا شیشہ توڑ کر بیگ چوری کرلیا جس میں پاسپورٹ سمیت دیگر قیمتی اشیاء موجود تھیں۔
پاسپورٹ چوری ہونے کے بعد رجب بٹ نے پاکستان ہائی کمیشن لندن سے عارضی سفری دستاویز (Temporary Travel Document) کے لیے درخواست دی جو صرف ایک مرتبہ استعمال کی جا سکتی ہے۔ انہیں یہ دستاویز جاری کر دی گئی ہے اور وہ جلد پاکستان روانہ ہوں گے۔
رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا تھا کہ ان پر “حملہ” ہوا ہے تاہم قریبی ذرائع کے مطابق یہ واقعہ چوری کا ہے نہ کہ کوئی باقاعدہ حملہ۔ آزاد ذرائع سے کسی جسمانی حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاکستان واپسی پر رجب بٹ امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے نیا پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
یاد رہے کہ رجب بٹ اپنے سفر اور لائف اسٹائل ویڈیوز کی بدولت سوشل میڈیا پر خاصی شہرت رکھتے ہیں تاہم اس واقعے پر انہوں نے تاحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس نے بھی اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
20 مزیدپڑھیں:کلو آٹے کی قیمت میں اضافہ ہوگیا
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔