مودی حملہ کرنا چاہتا ہے ملکی سالمیت کیلئے ہم ہر حدتک جانے کو تیا ر: رانا ثنا
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
فیصل آباد (نوائے وقت رپورٹ) سیاسی مشیر وزیراعظم رانا ثناء اﷲ نے فیصل آباد میں اجتماع سے خطاب کرتے کہا ہے کہ مودی پاکستان کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ پہلگام واقعہ میں جاں بحق افراد بے گناہ تھے۔ وزیراعظم نے کہا پہلگام واقعہ کی تحقیقات کرائیں۔ بھارت اس کی طرف نہیں آیا بھارت کا مقصد ہے پہلگام واقعہ کی آڑ میں کشمیریوں پر ظلم کرے۔ کشمیریوں پر اتنا ظلم 75 سال میں نہیں ہوا جتنا آٹھ دنوں میں ہوا، یہ ظلم کشمیریوں کو روک نہیں سکتا، وہ حق خودارادیت لیکر ہی رہیں گے۔ مودی نے آئی ایم ایف سے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان سے معاہدہ کینسل کرے، مودی کی طرح گالی گلوچ بریگیڈ بھی یہی چاہ رہا ہے۔ گالی گلوچ بریگیڈ والے آئی ایم ایف دفتر کے سامنے احتجاج کرتے ہیں۔ مودی ایسا حملہ کرنا چاہتا ہے پاکستان اپنی سلامتی برقرار نہ رکھ سکے۔ لیکن ہم ملکی سالمیت کی خاطر ہر حد تک جانے کو تیار ہیں۔ بھارت نے سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ معطل کیا۔ رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ ملک کو دفاع کیلئے جنرل عاصم منیر کی شکل میں مرد مومن بھی میسر ہے، وہ حافظ قرآن بھی ہیں پکے مسلمان بھی ہیں اور پاکستان پر مر مٹنے کا جذبہ بھی رکھتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔