اسلام آباد (خبر نگار خصوصی + اپنے سٹاف رپورٹر سے) پاکستان نے ابدالی میزائل نظام کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ پاک فوج کی شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے ہفتہ کو جاری پریس ریلیز کے مطابق ابدالی میزائل کی رینج 450 کلو میٹر ہے۔ آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ ابدالی ویپن سسٹم کا تجربہ انڈس مشقوں کے دوران کیا گیا۔ ابدالی میزائل زمین سے زمین تک ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تجربہ کا مقصد آپریشنل تیاریوں کو یقینی بنانا ہے اور فوجی دستوں کی آپریشنل تیاری سمیت ٹیکنیکل پیرامیٹرز کی جانچ کرنا تھا۔ تجربے میں میزائل کے جدید نیویگیشن سسٹم اور مینیوربلٹی فیچرز کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ابدالی میزائل تجربے کا مقصد فوج کی پیشہ ورانہ تیاریوں کو یقینی بنانا تھا۔ ابدائی ویپن کے ٹریننگ لانچ کے موقع پر کمانڈر سٹریٹیجک فورس کمانڈ بھی موجود تھے۔ صدر مملکت اور وزیر اعظم نے کامیاب تجربے پر سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے جبکہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی اور سروسز چیفس نے بھی ابدالی میزائل کے کامیاب تجربہ پر مبارکباد دی۔ انہوں نے پاکستان کی سٹریٹیجک فورسز کی آپریشنلز تیاریوں اور تکنیکی مہارت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ دریں اثناء وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے زمین سے زمین تک مار کرنے والے ابدالی میزائل کے کامیاب تجربے پر سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 450 کلو میٹر تک مار کرنے والے ابدالی میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کے سائنسدانوں اور انجینئرز کا شاندار کارنامہ ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ ہمارے سائنسدانوں اور انجینئرز نے ایک بار پھر تکینکی مہارت اور پروفیشنل ازم کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ سائنسدانوں اور انجینئرز نے میزائل ٹیکنالوجی میں ایک اور سنگ میل عبور کیا ہے۔ محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان کے سٹرٹیجک اداروں اور سکیورٹی فورسز کی بدولت پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر ہے، دشمن پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔دریں اثناء وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ابدالی میزائل ایٹمی ہتھیار بھی لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔علاوہ ازیں پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پاکستان کی جانب سے کامیاب میزائل تجربے پر قوم کو مبارکباد دی ہے۔ انجینئرز اور سائنسدانو ں کو خراج تحسین   پیش کیا، بلاول بھٹو زرداری  نے کہا کہ میزائل تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے، ہم اپنے وطن کے بہادر محافظوں کو سلام پیش کرتے ہیں۔علاوہ ازیں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے ابدالی میزائل سسٹم کے کامیاب تجربے پر مسلح افواج اور قوم کو مبارکباد دی ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ابدالی ویپن سسٹم کی کامیاب تربیتی لانچ پر سائنسدانوں، مسلح افواج اور قوم کو دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: سائنسدانوں اور انجینئرز کو مبارکباد دی ہے ابدالی میزائل پاکستان کی نے کہا کہ

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • علاقائی کشیدگی اور بحرین میں شیعہ اکثریتی آبادی کو نشانہ بنانے کی پالیسی
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی