پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر مُفصّل ڈاکومینٹری جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر مُفصّل ڈاکومینٹری جاری کردی گئی جس میں ڈاکومینٹری میں پہلگام فالس فلیگ کے اصل محرکات، زمینی حقائق اور بھارت کی طرف سے کس طرح جھوٹا بیانیہ بنایا گیا، کو اجاگر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکومینٹری میں بھارت کے پاکستان میں دہشت گردی کروانے کے نا قابل تردید ثبوت بھی پیش کیے گئے ہیں۔
بھارتی عوام، سیاست دانوں، تمام مکتبہ فکر کی طرف سے پہلگام فالس فلیگ پر اٹھائے جانے والے سنجیدہ سوال بھی ڈاکومینٹری میں شامل ہیں، اس کے علاوہ ڈاکومینٹری میں پہلگام فالس فلیگ میں موجود واضح ابہام اور کوتاہیوں کی نا قابل تردید شواہد کے ساتھ نشان دہی کی گئی ہے۔
پاکستان نے کیسے بھارتی پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے جواب میں اپنی اعلی حکمت عملی اور بیانیے سے بھارت کو کسی مہم جوئی سے پہلے ہی شکست دی، یہ تفصیل بھی ڈاکومینٹری کا حصہ ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پہلگام فالس فلیگ ڈاکومینٹری میں
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :