بھارت سے ہر قسم کی اشیاء کی درآمد پر پابندی ، نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)حکومت پاکستان نے حالیہ کشیدگی کے پیش نظر بھارت سے ہر قسم کی اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر دی ہے جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ۔وزارت تجارت کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیاہے کہ بھارت سے ہر قسم کی اشیاء کی درآمد پر پابندی لگانے کا فیصلہ وفاقی حکومت نے قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے پیش نظر کیا۔
نوٹیفکیشن کے مطابق فیصلہ درآمدات و برآمدات کنٹرول ایکٹ 1950 کی دفعہ 3 کی ذیلی دفعہ کے تحت کیا گیا جس کے مطابق انڈیا سے آنے والی اشیاء کی درآمد پر پابندی ہوگی، پاکستان سے سمندر، زمین یا ہوا کے ذریعے گزرنے والی بھارتی اشیا پر بھی پابندی عائد ہو گی ۔نوٹیفکیشن دیگر ممالک کی برآمدات جو انڈیا کے لیے ہوں ان پر بھی پابندی ہوگی، اس آرڈرسے پہلے جاری ہونے والے لیٹر آف کریڈٹ پر اطلاق نہیں ہوگا، نئی پابندیوں کا اطلاق ان درآمدات یا برآمدات پر نہیں ہوگا جن کے لیے بل آف لیڈنگ پہلے جاری ہو چکے ہوں۔
وزیرِ اطلاعات اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی کچھ دیر بعد بریفنگ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔