پاک بھارت جنگ کا سوچ بھی نہیں سکتے، جنگ ہوئی تو قابو سے باہر ہوگی، امریکی کانگریس مین
اشاعت کی تاریخ: 4th, May 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنلڈیسک)امریکی کانگریس کے دو ریپبلکن اراکین نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا اور امریکا کو ایسی کسی بھی صورتحال کو روکنے میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیویارک کے ایک ہوٹل میں پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے اپنے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
تقریب میں امریکی رکنِ کانگریس لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) جیک برگمین اور لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) کیتھ سیلف مہمانِ خصوصی تھے جبکہ پاکستانی امریکن تنویر احمد سمیت متعدد نمایاں شخصیات شریک ہوئیں۔ شرکاء نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں حالیہ واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے پیدا کی گئی کشیدگی، جنگی جنون اور پاکستان پر عائد کیے گئے بے بنیاد الزامات کی طرف کانگریس اراکین کی توجہ دلائی۔
کیتھ سیلف، جو امریکا کی اسپیشل فورسز کے نیوکلیئر یونٹ میں کمانڈر رہ چکے ہیں، نے کہا کہ وہ جنگ کے اسٹریٹیجک پہلوؤں کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ایک بار ایٹمی جنگ شروع ہو جائے تو اسے کنٹرول نہیں کیا جا سکتا، یہ ایک ایسا راستہ اختیار کرلیتی ہے جس کا اندازہ کوئی بھی نہیں لگا سکتا۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ایٹمی طاقتیں ہیں اور ان کے درمیان جنگ کا تصور بھی خوفناک ہے۔
جیک برگمین نے کہا کہ دنیا میں موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے امریکا کو اپنے ہم خیال آزاد ممالک کے ساتھ مل کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ دنیا کو ناکامیوں سے بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں انسان بستے ہیں، جو اپنی غلطیوں سے اسے تباہی کے دہانے پر لے آتے ہیں، لہٰذا ایسے وقت میں قیادت اور ہوش مندی کی ضرورت ہے۔
تقریب میں پاکستانی امریکن تنویر احمد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت قیام پاکستان سے اب تک کئی فالس فلیگ آپریشنز میں ملوث رہا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ پہلگام واقعہ کے محض 10 منٹ بعد ایف آئی آر درج کر لی گئی، حالانکہ جائے وقوعہ سے قریبی پولیس اسٹیشن ایک گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے حسبِ روایت بغیر کسی ثبوت کے الزام پاکستان پر دھر دیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایسے ماحول میں امریکا کیا کردار ادا کرے گا؟
شرکاء نے توقع ظاہر کی کہ امریکا بھارتی جنگی ماحول کو ختم کرنے کے لیے مداخلت کرے گا تاکہ جنوبی ایشیا میں امن قائم رکھا جا سکے۔ کانگریس اراکین نے یقین دلایا کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اسے متعلقہ فورمز پر اجاگر کیا جائے گا۔
مزیدپڑھیں:جنگلات میں طیارے کی ہنگامی لینڈنگ، مسافر بچوں سمیت مگرمچھوں کے بیچ پھنس گئے
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز