بالی ووڈ کے معروف اداکار عرفان خان مرحوم کے بیٹے اداکار بابل خان کے انسٹاگرام اسٹوریز پر ٹوٹ پڑنے اور بالی ووڈ کو ‘جعلی انڈسٹری‘ کہنے کے چند گھنٹے بعد ان کے اہلخانہ اور ٹیم نے ایک بیان جاری کردیا۔

یہ بھی پڑھیں: ’بابا میں ہار نہیں مانوں گا، آپ سے بہت پیار کرتا ہوں‘

بیان میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ ویڈیو کی غلط تشریح کی گئی ہے اور یہ کہ بابل خان ایک مشکل وقت گزار رہے ہیں۔ تاہم اہل خانہ نے یہ بھی کہا کہ بابل ٹھیک ہیں اور وہ جلد مزید بہتر ہوجائیں گے۔

اہلخانہ نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں بابل خان نے اپنے کام کے ساتھ ساتھ اپنے دماغی صحت کے سفر کے بارے میں کھلے اظہار پر بے پناہ محبت اور تعریف ملی ہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اپنے تمام خیر خواہوں کو یقین دلانا چاہتے ہیں کہ وہ محفوظ ہیں اور جلد بہتر محسوس کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بابل کی ایک ویڈیو کو غلط طور پر دیکھا گیا۔

مزید پڑھیے: بالی وڈ اداکار عرفان خان کے بعد زندگی کیسی ہے؟

مذکورہ ویڈیو میں بابل خان نے یہ کہا تھا کہ بالی ووڈ سب سے زیادہ جعلی انڈسٹری ہے جس کا کبھی میں بھی حصہ رہا ہوں لیکن بہت کم لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ بالی ووڈ بہتر ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مجھے آپ کو بہت کچھ دکھانا ہے، میرے پاس آپ کو بتانے کے لیے بہت کچھ ہے۔

ایک اور پیغام میں بابل نے کہا تھا کہ میں آپ کو بتانا چاہتا ہوں کہ ’شنایا کپور، اننیا پانڈے، ارجن کپور، سدھانت چترویدی، راگھو جویال، آدرش گورو اور ارجیت سنگھ ایسے بہت سے لوگ ہیں، بالی ووڈ بہت ظالم ہے‘۔

تاہم اہلخانہ کی جانب سے یہ کہا گیا کہ بابل کی جانب سے اننیا پانڈے، شانایا کپور، سدھانت چترویدی، راگھو جوئیل، آدرش گورو، ارجن کپور، اور اریجیت سنگھ جیسے فنکاروں کا ذکر کرنے کا مقصد ان کے دل، صداقت، جذبے اور انڈسٹری میں ساکھ بحال کرنے کی کوششوں کی حقیقی تعریف کرنا تھا۔

اہلخانہ نے کہا کہ ہم احترام کے ساتھ میڈیا کی اشاعتوں اور عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بکھرے ہوئے ویڈیو کلپس سے نتائج اخذ کرنے کے بجائے ان کے الفاظ کے مکمل سیاق و سباق پر غور کریں۔

مزید پڑھیں: مرحوم اداکار عرفان خان پردہ سیمیں پر آخری مرتبہ کب نظر آئیں گے؟

مذکورہ ویڈیو میں بابل بات کرتے ہوئے رو بھی رہے تھے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے کچھ گھنٹوں کے اندر ہی بابل خان نے اپنا انسٹاگرام اکاؤنٹ ہی ڈیلیٹ کر دیا۔

خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ بابل خان کسی ذاتی یا پیشہ ورانہ وجوہات کے سبب ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بابل خان بابل خان بالی ووڈ کے خلاف بابل خان کے اہلخانہ کا بیان عرفان خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بابل خان کے اہلخانہ کا بیان عرفان خان عرفان خان بالی ووڈ انہوں نے کہ بابل کہا کہ

پڑھیں:

مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج

طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کررہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ انتظامیہ نے جوہر یونیورسٹی کی 40 میں سے 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ یونیورسٹی میں زیر تعلیم اور فارغ طلباء ان احکامات کی مخالفت میں سڑکوں پر آگئے ہیں۔ یونیورسٹی کے روبرو گزشتہ کئی دن سے طلباء احتجاج کررہے ہیں۔ احتجاج میں شریک بی اے ایل ایل بی کی تیسرے سال کی طالبہ لائبہ نے کہا کہ تمام طلبہ اپنے پرامن مظاہرے کو لے کر متحد ہیں اور جب تک ان کی اپیل کی سماعت نہیں ہو جاتی اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔ لائبہ نے کہا "یہ بلڈوزر صرف یونیورسٹی کی عمارتوں پر نہیں چلے گا، یہ ہمارے مستقبل، ہمارے خوابوں اور ہماری ڈگریوں کو کچل دے گا"۔ طالبہ نے زور دے کر کہا "ہر مسئلے کا حل ہوتا ہے لیکن یونیورسٹی کو گرانا اس کا حل نہیں ہے"۔ لائبہ نے بتایا کہ طلباء کا ابتدائی مطالبہ کونسلنگ کیمپ کو ہٹانے کا تھا، انتظامیہ نے اس کی درخواست پوری کر دی ہے۔

اب ان کی بنیادی فکر یونیورسٹی کی عمارتوں کو برقرار رکھنے کو یقینی بنانا ہے تاکہ ان کی تعلیم میں خلل نہ پڑے۔ ایک طالبہ نے کہا کہ بہت سے والدین نے یونیورسٹی کے نظام اور ماحول پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی بیٹیوں کا داخلہ یہاں کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی کی گئی تو سب سے زیادہ نقصان ان طلبہ کا ہوگا جن کے اہل خانہ انہیں دوسرے شہر بھیجنے کو تیار نہیں۔ ایک طالب علم نے کہا "میں فی الحال اپنے تیسرے سال میں ہوں، پہلے ہی دو سال کی تعلیم مکمل کر چکا ہوں"۔ طالب علم نے سوال کیا کہ اگر یونیورسٹی کے خلاف کارروائی ہوئی تو ہمارے مستقبل کی ذمہ داری کون لے گا، ہم صرف حکومت، ضلعی انتظامیہ اور عدالت سے اپیل کر رہے ہیں کہ ہماری یونیورسٹی کو نہ گرایا جائے۔ فی الحال طلباء کا احتجاج جاری ہے کیونکہ وہ ضلعی انتظامیہ اور عدالت کے فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ انتظامیہ اس معاملے میں کیا فیصلہ کرے گی اور طلبہ کی جذباتی اپیل کے جواب میں کیا اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب طلباء کی اس تحریک کو سماجوادی پارٹی کا ساتھ مل رہا ہے۔ امروہہ صدر کے ایس پی ایم ایل اے، سابق کابینہ وزیر، اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے موجودہ چیئرمین محبوب علی کو رام پور پہنچنے سے پہلے ہی پولیس نے جمعرات کو ان کی امروہہ کی رہائش گاہ پر روک لیا۔ اس کارروائی سے ایس پی کارکنوں میں خاصی ناراضگی پھیل گئی۔ حامیوں کی ایک بڑی تعداد ان کے گھر کے باہر احتجاج کے لیے جمع ہوئی اور حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ محبوب علی نے الزام لگایا کہ وہ جمعرات کو صبح 11 بجے کے قریب اپنے حامیوں کے ساتھ رام پور کے لیے روانہ ہونے والے تھے۔ ان کا منصوبہ تھا کہ وہ رات 12 بجے تک جوہر یونیورسٹی پہنچ جائیں گے۔ تاہم امروہہ پولیس اس سے پہلے ہی ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئی اور انہیں باہر نکلنے سے روک دیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں بغیر کوئی واضح وجہ بتائے اپنا گھر چھوڑنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔ اس کارروائی کو جمہوری حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے، ایس پی ایم ایل اے نے کہا کہ حکومت سیاسی مخالفین کی آوازوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندے کو پرامن سفر کرنے اور اپنے خیالات کا اظہار کرنے سے روکنا جمہوری نظام کے لیے نامناسب ہے۔ کارکنوں نے اس کارروائی کے خلاف احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور اسے سیاسی انتقام کی کارروائی قرار دیا۔ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری رہائش گاہ کے باہر متعین کر دی گئی تاکہ رونما ہونے والے واقعات پر نظر رکھی جا سکے۔

اس دوران محبوب علی نے بھی جوہر یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو گرانے کے مجوزہ اقدام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیئے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کا غیر جانبدارانہ اور شفاف جائزہ لیا جائے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ تمام متعلقہ فریقین کو اپنا کیس پیش کرنے کا پورا موقع دیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی انتظامی یا قانونی کارروائی یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلباء کو سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے۔ اس لئے ان کی پڑھائی، امتحانات اور دیگر تعلیمی سرگرمیوں میں کسی بھی طرح رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہیئے، کیونکہ کہ یہ صرف عمارتوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ ہزاروں طلباء کے مستقبل کا سوال ہے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • لاہور ڈی ایچ اے میں بارش کے بعد پانی بھرگیا، رابی پیرزادہ کا مریم نواز سے شکوہ
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی