کراچی:

کراچی میں اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے تحت انٹر کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا ہے، جس میں 1 لاکھ 26 ہزار 500 سے زائد طلبہ و طالبات صبح اور شام کی شفٹوں میں شریک ہو رہے ہیں۔

اس موقع پر امتحانات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

انٹر بورڈ کے امتحانات دو شفٹوں میں لیے جا رہے ہیں۔ صبح کی شفٹ میں 92 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات شامل ہیں، جنہوں نے سائنس پری میڈیکل سمیت دیگر مضامین کا امتحان دینا ہے۔

صبح کی شفٹ کا امتحان صبح 9 بجے سے 12 بجے تک ہوگا، جس میں آج گیارہویں جماعت کا میتھمیٹکس کا پرچہ لیا جائے گا۔

شام کی شفٹ میں 34 ہزار 500 سے زائد امیدوار شریک ہوں گے، اور اس میں دوپہر 2 بجے سے 5 بجے تک سائنس جنرل کے امتحانات ہوں گے۔

کراچی میں مجموعی طور پر 182 امتحانی مراکز قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 122 امتحانی مراکز صبح کی شفٹ میں جبکہ 60 شام کی شفٹ میں ہیں۔

ان مراکز میں 36 انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں، جہاں خصوصی سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔

چیئرمین اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی غلام حسین سوہو نے بتایا کہ امتحانات کے دوران امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔

36 حساس امتحانی مراکز پر خصوصی سیکیورٹی تعینات کی گئی ہے اور نقل کی روک تھام کے لیے مانیٹرنگ سیل قائم کیے گئے ہیں۔

مزید برآں شہر کے تمام ڈسٹرکٹس میں ڈپٹی کمشنر آفسز میں شکایتی سیل بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں انٹر بورڈ کے نمائندے موجود ہوں گے۔

امتحانات کے دوران گرمی کی شدت کے پیش نظر ریسکیو 1122 کی خدمات حاصل کرنے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں۔

امتحانی مراکز کے اطراف دفعہ 144 نافذ ہے، جس کے تحت غیر متعلقہ افراد کی آمدورفت اور فوٹو اسٹیٹ مشینوں کی دکانیں کھولنے پر سخت پابندی ہے۔

تمام امتحانی مراکز میں پرچوں کی ترسیل جاری ہے اور ہر پرچے میں اس امتحانی مرکز کا کوڈ شامل کیا گیا ہے تاکہ اگر کسی پرچے کا کسی مرکز سے لیک ہونے کا شبہ ہو تو فوراً اس کا پتہ چلایا جا سکے۔

چیئرمین بورڈ نے بتایا کہ نقل کی روک تھام کے لیے 16 سپر ویجی لینس ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں، جو امتحانات کے دوران کسی بھی قسم کی نقل کو روکنے کے لیے سخت نگرانی کریں گی۔

امتحانی مراکز میں موبائل فونز اور دیگر ڈیوائسز کے استعمال پر بھی پابندی ہے، اور ایسی کسی بھی چیز کو ضبط کر لیا جائے گا۔

چیئرمین غلام حسین سوہو نے مزید کہا کہ انٹر کے امتحانات کے نتائج دو ماہ کے اندر اعلان کر دیے جائیں گے۔ امتحانات بروز جمعرات 29 مئی 2025 تک جاری رہیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امتحانی مراکز امتحانات کے کیے گئے ہیں کی شفٹ میں کے لیے

پڑھیں:

آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔

بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے