پی ایس ایل: دلچسپ مقابلہ، کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو 4 وکٹ سے ہرادیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن 10 کے 24 ویں میچ میں کراچی کنگز نے لاہور قلندرز کو 4 وکٹ سے شکست دے دی۔
قذافی اسٹیڈیم لاہور میں کھیلے جا رہے میچ میں کراچی کنگز نے ٹاس جیت کر لاہور قلندرز کو بیٹنگ کی دعوت دی، 8 ویں اوور میں میچ بارش سے متاثر ہوا تو اسے 15، 15 اوورز تک محدود کر دیا گیا تھا۔
لاہور قلندرز نے فخر زمان اور محمد نعیم کی عمدہ بیٹنگ پرفارمنس کی بدولت مقررہ اوورز میں 8 وکٹ پر 160 رنز بنائے، ڈک ورتھ لوئیس میتھڈ کے تحت کراچی کنگز کو168 رنز کا ہدف ملا۔
کراچی کنگز نے مقررہ ہدف 3 گیندوں قبل 6 وکٹ کے نقصان پر حاصل کیا اور میچ میں فتح اپنے نام کر لی۔
کراچی کنگز کی طرف سے عرفان خان نے 21 گیندوں پر 48 رنز کی ناقابلِ شکست باری کھیلی اور ٹیم کی فتح میں نمایاں کردار ادا کیا۔
دیگر کھلاڑیوں میں سعد بیگ 25، ڈیوڈ وارنر اور ٹم سائفٹ 24، 24، محمد نبی 15 اور ونس 13 رنز شامل تھے۔
لاہور قلندرز کی طرف حارث رؤف اور ڈیرل مچل نے 2، 2 وکٹ حاصل کیں۔
اس سے قبل لاہور قلندرز کی پہلی وکٹ بارش سے بالکل پہلے گری، 7 اعشاریہ 5 اوورز میں فخر زمان اور محمد نعیم نے 90 رنز کی شراکت قائم کی، آؤٹ ہونے والے بیٹر نے 5 چھکے اور 6 چوکوں کی مدد سے 29 گیندوں پر 65 رنز کی باری کھیلی۔
فخر زمان 33 گیندوں پر 51 رنز بنا کر پویلین لوٹے، اُن کی اننگز 3 چھکوں اور 4 چوکوں سے مزین تھی، دیگر آؤٹ ہونے والے کھلاڑیوں میں عبداللّٰہ شفیق 18 رنز شامل تھے، باقی کوئی اور کھلاڑی ڈبل فیگر میں داخل نہ ہو سکا۔
کراچی کنگز کے عباس آفریدی نے 4، میر حمزہ، عامر جمال اور حسن علی نے 1، 1 وکٹ اپنے نام کی، ایونٹ میں عباس آفریدی کی وکٹوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔
میچ میں لاہور قلندرز کی قیادت شاہین شاہ آفریدی جبکہ کراچی کنگز کی کپتانی کے ڈیوڈ وارنر کے سپرد ہے۔
اہم میچ کے لیے لاہور قلندرز کی ٹیم میں ایک تبدیلی کی گئی ہے، فاسٹ بولر ٹام کرن کی جگہ اسپنر رشاد حسین کو شامل کیا گیا۔
دوسری طرف کراچی کنگز کی ٹیم میں 2 تبدیلیاں کی گئی ہیں، فواد علی اور عمیر بن یوسف کی جگہ حسن علی اور سعد کو اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لاہور قلندرز کی کراچی کنگز نے میچ میں
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم