پنجاب میں 4 ہزار، سندھ میں صرف 250 فارماسسٹ تعینات؛ مہنگی ادویات عوام کی پہنچ سے باہر
اشاعت کی تاریخ: 5th, May 2025 GMT
کراچی:
سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں فارمسٹ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے جبکہ ادویات کی قیمتوں میں گزشتہ ایک سال میں 200 فیصد اضافہ ہوا ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے ادویات کے حوالے سے کوئی پالیسی نہ ہونے پر پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن سندھ کے صدر عدنان رضوی نے فارماسسٹ اجلا س کے بعد ایکسپریس ٹربیون سے بات چیت میں بتایا کہ ملک میں وفاقی سطح پر ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے والے خاموش ہیں جس کی وجہ سے ادویات کی قیمتوں میں 200 فیصد تک اضافہ ہوگیا ہے اور اب صورتحال یہ ہے مریضوں کی بڑی تعداد ادویات سے دور ہورہی ہے جو ایک خظرناک صورتحال بنتی جا رہی ہے مریضوں کی اکثریت ادویات خریدنے کی سکت نہیں رکھتی۔
دوسری جانب اینٹی بائیوٹک کے غیر ضروری استعمال سے انسانی جسم میں مختلف بیکٹیریا کے خلاف قوت مزاحمت ختم ہورہی ہے۔ پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن سندھ کے صدر جناب عدنان رضوی نے مزید بتایاکہ کراچی سمیت سندھ کے سرکاری استپال میں صرف 250 فارمسٹ موجود ہیں، بلوچستان کے اسپتالوں میں 1200 جبکہ پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں 4000 فارماسسٹ تعینات ہیں۔
کراچی کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال جناح استپال جہاں 2500 بستروں کی تعداڈ ہیں اتنے بڑے اسپتال میں صرف 2 فارماسسٹ کام کررہے ہیں۔سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں فارماسسٹ کی مجموعی تعداد کم ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا جبکہ اجلاس میں ادویات کی قیمتوں میں اضافے پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔
اجلاس میں حکومت اور ڈریپ (DRAP) سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا کہ پالیسی فوری مرتب کی جائے تاکہ Non - essential ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جا سکے کیونکہ یہ قیمتیں عام مریضوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
اس کے علاوہ اجلاس میں فارماکوویجیلنسPharmacovigilance)، اے ڈی آر(ائڈورس ڈرگ ری ایکشن Adverse drug reaction) اے ایم آر (اینٹی مائکروبئل رزسٹنسAnti microbial resistance) جیسے اہم نکتوں پر بھی گفتگو کی گئی۔
پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن (PPA) سندھ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ فارماسسٹ عوامی صحت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، فارماسسٹ سب سے زیادہ قابل رسائی صحت کے ماہرین ہیں جو یہ یقینی بناتے ہیں کہ ادویات محفوظ اور مؤثر طریقے سے استعمال ہوں۔ ان کا کردار ADR کی شناخت اور بروقت رپورٹنگ میں نہایت اہم ہے جس سے مریضوں کو شدید نقصان سے بچایا جا سکتا ہے۔ خاتون فارماسسٹ کے لئے الیکٹرک اسکوٹی کی فراہمی کے لیے انشاء اللہ جلد لائحہ عمل بنا کر حکومتی وفد سے ملاقات کی جائے گی۔
اجلاس موجود محمد بخش سومرو(جنرل سیکریٹری PPA سندھ) غیاث احمد اور فرحان انصاری کا کہنا تھا کہ ہم فارماسسٹ کمیونٹی کو بہتر بنانے میں ہم کردار ادا کریں گے اور ان کے جائز حقوق کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن ادویات کی قیمتوں اسپتالوں میں کے سرکاری سندھ کے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔