اسرائیل؛ حماس کے مکمل خاتمے اور یرغمالیوں کی رہائی تک کیلیے نئے فوجی آپریشن کی منظوری
اشاعت کی تاریخ: 6th, May 2025 GMT
وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر دھمکی دی ہے کہا کہ یرغمالیوں کی رہائی اور حماس کی شکست تک اسرائیلی فوجیں غزہ پر قابض رہیں گی۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ غزہ کے جو علاقے قبضے میں لیے گئے ہیں وہاں اسرائیلی فوج غیر معینہ مدت تک تعینات رہ سکتی ہیں۔
اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کا قبضہ اس وقت تک رہے گا جب تک حماس کو مکمل شکست نہیں ہوجاتی اور تمام یرغمالی گھروں کو واپس نہیں آجاتے۔
وزیراعظم نیتن یاہو نے بتایا کہ کابینہ نے غزہ میں فوجی کارروائیوں میں مزید تیزی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈفرن نے کہا کہ اس نئی مہم کا نام "گیڈیون کے رتھ" رکھا گیا ہے جس کا مقصد یرغمالیوں کی واپسی اور حماس کی حکمرانی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس آپریشن میں غزہ کی آبادی کی اکثریت کو ان علاقوں میں منتقل کیا جائے گا جہاں حماس کی موجودگی نہ ہو تاکہ شہریوں کو تحفظ ملے اور اسرائیلی فوج کو کھلی کارروائی کا موقع دیا جا سکے۔
ترجمان اسرائیلی فوج نے یہ بھی بتایا کہ "رفح ماڈل" کو پورے غزہ میں نافذ کیا جائے گا، جس کا مطلب ہے کہ حماس کے تمام بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا اور علاقے کو اسرائیل کے حفاظتی بفر زون کا حصہ قرار دینا ہے۔
اسرائیلی حکومت کے وزرا نے سیکیورٹی عہدیداروں کا بھی کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت غزہ کو مکمل طور پر فتح کر کے وہاں اسرائیلی فوج کا مستقل کنٹرول قائم کیا جائے۔
علاوہ ازیں اس منصوبے کے تحت شہری آبادی کو جنوبی علاقوں میں منتقل کیا جائے گا تاکہ حماس اور عام شہریوں کے درمیان فاصلہ پیدا کیا جا سکے۔
دوسری جانب بعض وزراء نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی زیادہ جارحانہ مؤقف اختیار کیا ہے۔
وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے کہا کہ ہم غزہ پر قبضہ کرنے جا رہے ہیں، چاہے کوئی یرغمالی معاہدہ ہو یا نہ ہو۔ اب 'قبضے' کے لفظ سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
وزیر ثقافت میکی زوہر نے بھی کہا کہ حماس پر تازہ حملے کا اصل مقصد غزہ پر مکمل قبضہ کرنا ہے، چاہے اس سے یرغمالیوں کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔
البتہ یرغمالیوں کے اہل خانہ نے اسرائیلی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ یرغمالیوں کے بجائے زمین کے ٹکڑے کو اہمیت دے رہی ہے۔
یرغمالیوں کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ 70 فیصد عوام یرغمالیوں کی رہائی کے بدلے جنگ کے خاتمے کے حق میں ہیں۔
یاد رہے کہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تھا جس میں 1500 کے قریب افراد ہلاک ہوگئے تھے اور 251 کو یرغمال بنا لیا تھا۔
حماس کے جنگجو ان یرغمالیوں کو اپنے ساتھ اسرائیل سے غزہ لے گئے تھے۔ ان 250 اسرائیلی یرغمالیوں میں سے 58 اب بھی حماس کی قید میں ہیں جن میں سے 35 کے مردہ ہونے کا خدشہ ہے۔
حماس کے حملے کے جواب میں اسرائیلی فوج نے غزہ پر 8 اکتوبر 2023 سے مسلسل بمباری جاری رکھی ہوئی ہے جس میں اب تک 60 ہزار کے قریب فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جن میں نصف تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔
دس لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہوگئے جب کہ تمام بڑے اسپتال تباہ ہوچکے ہیں۔ رہائشی علاقے کھنڈر میں تبدیل ہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اسرائیلی فوج یرغمالیوں کی نیتن یاہو نے کہا کہ کیا جائے حماس کی حماس کے
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔