بھارت کا حملہ: اسلام آباد اور پنجاب کے تعلیمی ادارے آج کے لئے بند،نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
بھارت کی جانب سے منگل اور بدھ کی درمیاںی رات پاکستان کے حملے کے بعد پاکستان میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی جس کے پیش نظر پنجاب اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں آج تعلیمی ادارے بند رہیں گے۔ بھارت کی جانب سے حملے کے بعد وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے بھر میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا جس کے تحت تمام سرکاری اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ حکومتی اعلامیے کے مطابق پنجاب بھر کے تمام تعلیمی ادارے آج بند رہیں گے۔ بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن لاہور نے انٹر پارٹ ٹو کے تھیوری امتحان اور میٹرک کے پریکٹیکل امتحان کو ملتوی کر دیا ہے۔ترجمان لاہور بورڈ کے مطابق انٹرمیڈیٹ کے طلباء کا آج اسلامیات اختیاری اور پرنسپل آف اکاونٹنگ کا پرچہ ہونا تھا جبکہ میٹرک کے طلباء کا کمپیوٹر سائنس کا عملی امتحان شیڈول تھا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ مذکورہ امتحانات کے لیے نیا شیڈول بعد میں جاری کیا جائے گا۔ دوسری جانب اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے تمام تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ تاہم وفاقی دارالحکومت میں آج ہونے والے تمام امتحانات اپنے مقررہ شیڈول کے مطابق منعقد کیے جائیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
بھارتی شہر کولکتہ کے علاقے لیک ٹاؤن میں نصب فٹبال لیجنڈ لیونل میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ مقامی رہائشیوں کی شکایات کے بعد ہٹا دیا گیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق شہریوں کا کہنا تھا کہ تیز ہواؤں کے دوران یہ دیوقامت ڈھانچہ ہلتا محسوس ہوتا تھا جس سے حفاظتی خطرات پیدا ہو رہے تھے۔
میسی کا یہ مجسمہ گزشتہ سال دسمبر میں نصب کیا گیا تھا اور اسے 2022 فیفا ورلڈ کپ کے فاتح کپتان کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔
مجسمے میں ارجنٹائن کے سپر اسٹار کو ورلڈ کپ ٹرافی تھامے ہوئے دکھایا گیا تھا جو ان کی تاریخی کامیابی کی یادگار کے طور پر بنایا گیا تھا۔
یہ یادگار میسی کے مداحوں کی جانب سے ان کے بھارت کے دورے کے موقع پر وی آئی پی روڈ کے کنارے قائم کی گئی تھی۔
View this post on Instagramتاہم حالیہ دنوں میں مقامی افراد نے انتظامیہ کو آگاہ کیا کہ تیز ہوا چلنے پر مجسمہ معمولی طور پر جھولتا نظر آتا ہے جس سے راہگیروں اور قریبی آبادی کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
حکام نے عوامی تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے مجسمے کو عارضی طور پر ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس کے مستقبل کے بارے میں تاحال کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔