Daily Ausaf:
2026-07-24@16:17:10 GMT

دھڑکتے دلوں کاعہد۔۔۔اتحادکی صدا

اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT

(گزشتہ سے پیوستہ)
ایران وپاکستان،اس وقت مزاحمت کے پرچم بردارہیں۔تاہم اس تاریکی میں بھی ایک چراغ روشن ہے ،تہران واسلام آبادکااتحاد۔ایران، جوصہیونی جارحیت کے خلاف برہنہ تلواربنا کھڑا ہے اور پاکستان، جوآبی دہشت گردی کانشانہ بن رہاہے،آج مشترکہ دکھ اورمشترکہ دشمن کے خلاف صف آراہیں۔ ان کا اتحاد مفادکانہیں،ایمان کاہے۔یہ انکارِظلم کا عہدہے۔یہ کربلا کا ورثہ ہے جہاں خون،خنجرسے شکست نہیں کھاتا،بلکہ تاریخ میں اپنامقام بناتاہے۔
وقت آچکاہے کہ ہم صرف مرثیے نہ لکھیں،ہم صرف ماتم نہ کریں،بلکہ ہم تاریخ کارخ بدلنے کے لئے دانش،تدبراوروحدت کے ہتھیاروں سےلیس ہوں۔ ایک سوال،جوتاریخ پوچھے گی،کل جب مورخ قلم اٹھائے گا وہ یہ سوال ضرورلکھے گا:جب دنیاایٹمی آگ کے دہانے پر تھی، تو کیااہلِ دانش،اہلِ قلم،اہلِ اقتدارخاموش تماشائی بنے رہے؟
آج ایٹم کی دہلیزپرسیاست کارقص ہورہاہے جب مودی کی جمہوریت،تباہی کاانتخاب کرے تو اس کولگام ڈالنےکے لئے اقوام عالم کی امن پسندقوتوں کو اٹھناہوگا۔آج ہمیں فیصلہ کرنا ہے۔ ہمیں دشمن کی جارحیت کوصرف ردکرنے کی بجائے ایک فکری، سفارتی اورتہذیبی محاذ پرشکست دینی ہے۔ہمیں دکھانا ہے کہ برصغیرکی جنگ نہ ہندوتوا جیت سکتی ہے،نہ بم بلکہ صرف امن،عقل،اور اتحادہی اس خطے کی تقدیررقم کرسکتے ہیں۔
آج بھی وقت ہمارے ہاتھ سے مکمل طورپرنکل نہیں گیا۔ابھی مہلت باقی ہے کہ دنیاکی آوازیں یکجاہو جائیں،کہ صحافت،شاعری اور سفارت،مل کر جنگ کی آگ پرپانی ڈالیں۔
تاریخ صرف وہ واقعات یادنہیں رکھتی جو ہوئے؛وہ خاموشیاں بھی یادرکھتی ہے،جنہوں نے ظلم کوجنم دیا۔آئیں،خاموشی توڑیں۔ نہ نفرت سے،بلکہ شعور سے۔ نہ جنگ سے،بلکہ وقار سے۔
تاریخ کی دہلیزپر،ایک لمحہ اختیارکاصدیوں پربھاری ہوتاہے۔کہیں ایسانہ ہوکہ کل کی نسلیں ہم سے سوال کریں کہ ’’جب دنیاجلنے لگی،تم کہاں تھے؟‘‘ اے ملتِ اسلامیہ!جاگنے کاوقت آپہنچا ہے، امتِ مصطفی کے نام ایک پکارہے،ایک چیخ ہے،ایک فریادہے،اک سوال ہے کہ جب کعبہ کی چھاؤں میں اذان گونجی تھی،توقیصرو کسریٰ کے ایوان لرزے تھے اور آج، انہی ایوانوں کے وارث پاکستان،ایران، ترکی اور افغانستان غفلت کی دھندمیں گم،اپنی اپنی فصیلوں کے اندردشمنوں کے خنجرگنتے ہیں۔ اے خاکِ حجازکی خوشبوکے امینو!دشمن تمہاری سرزمین کوزرخیزنہیں،بلکہ بے حس دیکھناچاہتا ہے۔ مودی،نیتن یاہواورٹرمپ تین سائے،تین سامری،تین فتنے آج تمہارے دریا، تمہارے پہاڑ،تمہاری دانش، تمہاری غیرت،سب کچھ چھین لینے کی سازش میں مصروف ہیں۔
پاکستان کے ایٹمی اثاثے ان کی آنکھ کا کانٹا ہیں۔ایران کاخوددارسائنسدان ان کے میزائلوں کا نشانہ ہے۔ترکی کی خودمختارپالیسی ان کے مفادات کے لئےخطرہ ہے۔افغانستان کا جغرافیہ انکی بندوق کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ون ورلڈآرڈر ،صیہونی طاقت اورسامراجی زنجیریں صرف ایک مقصد؟ایک ایساشیطانی خواب،جس میں نہ اذان ہو،نہ افطار،نہ آزادیِ فکر،نہ غیرتِ عمل،صرف سودی نظام۔یادرکھو!اگرآج بھی ہم نےاخوتِ اسلامی کا پرچم بلندنہ کیاتوکل ہمارے مساجد ومدارس، ہمارے مدرسے ومزار،سب خاک کا حصہ بن جائیں گے۔وہ دن دورنہیں کہ حرم کی دیواریں بھی قرض کے عوض گروی رکھی جائیں گی، اورقبلہ اول کاسایہ،صرف تصویروں میں باقی رہ جائے گا۔
مسلمانو!اب وقت ہے کہ تم زبان، نسل، فرقہ،اورمسلک کے تمام پردے چاک کرکے ایک پرچم تلے جمع ہوجاؤ،وہ پرچم جوبدرکے میدان میں بلند ہوا تھا، وہ پرچم جس نے کربلا میں سرکٹواکربھی گرنے نہ دیا۔ آغازپاکستان،ایران،افغانستان اورترکی سے کرو۔یہ چار ستون، اگر ایک مرکزپرجمع ہوجائیں تو ان سے ایک ایسی اسلامی شوری بن سکتی ہے جونہ صرف اپنی قوموں کادفاع کرسکتی ہے،بلکہ امتِ مسلمہ کے باقی ٹکڑوں کوبھی جوڑسکتی ہے۔چین اورروس،اس سازش سے آگاہ ہیں۔عرب دنیا،اگرچہ خوفزدہ ہے،لیکن اس کے دل میں بھی سچ کی دھڑکن باقی ہے۔ان کااعتمادتب بحال ہوگاجب انہیں دکھائی دے گاکہ کوئی اٹھا ہے، کوئی بولاہے،کوئی آگے بڑھاہے۔ آؤ،ایک نئی صبح کی بنیادرکھو،ایک ایسی صبح جہاں نہ’’مسلم‘‘ایرانی ہونہ پاکستانی،نہ ترک،نہ افغانی ہو،بلکہ صرف امت محمدیﷺہو۔ کیاتمہیں وہ دن یادہے جب تم نے لبیک اللہم لبیک کہاتھا؟آج وقت ہے کہ اس لبیک کوعمل میں ڈھالو،اپنے ایٹم سے نہیں،اپنے ایمان سے ڈرائو۔اپنے تیل سےنہیں، اپنے اتحادسے طاقت دکھاؤ۔اپنے وطن کی نہیں،امت کی سرحدیں بچاؤ۔ خداکی قسم!اگرتم نے اخلاص سے قدم اٹھایا توفرشتے تمہاری صفوں میں اتریں گے،آسمان تمہارے نعرے سن لے گا،اورزمین تمہاری غیرت سے جگمگااٹھے گی۔پاکستان،ایران، افغانستان اورترکی،تم ہی ہووہ چارچراغ،جن سے پھرسے روشنی ممکن ہے۔اٹھو!کیونکہ اب بھی وقت ہے،قبل اس کے کہ تاریخ تمہارے ماتھے پرغلامی کاداغ ثبت کرے۔غورسے سنو،امتِ مسلمہ کے بکھرے ستاروں کوایک کہکشاں بنانے کی صداگونج رہی ہے۔اب وقت ہے کہ ہم دشمن کے ہنستے چہروں کے پیچھے چھپی سازشوں کوپہچانیں۔
اے وہ مسلمانوجن کے اجدادنے اندلس کے ساحلوں پراذانیں بلند کیں،اے وہ وارثانِ اسلام!جن کی تلوارنے قیصروکسریٰ کے تاج روند ڈالے،آج تم کہاں ہو؟کہاں چھپ گئے،وہ لہوجواحداورصفین میں بہے؟تمہیں نیند کیسے آتی ہے جب غزہ کی بیٹیاں دوپٹے کے بغیردفن ہوتی ہیں؟تم کیسے خاموش ہوجب کشمیری بچے ماں کے آغوش میں لاش بن جاتے ہیں؟دشمن نے تمہیں قومیت کے رنگوں میں الجھا کردین کے تاج سے محروم کیا۔تمہیں شیعہ وسنی،فارسی وعربی،ترک وافغان کے خانوں میں بانٹ کر تمہاری ’’امت‘‘کوخاک کردیا۔آج دشمن کے ہاتھ میں میڈیا ہے، معیشت ہے،اسلحہ ہے،اورتمہارے ہاتھ میں صرف بے حسی، انتشار،اورباہمی نفرت۔ مودی،نیتن یاہو اور ان کے سرپرست سامراجی ایوانیہ وہ شیاطین ہیں جو خلافتِ عثمانیہ کے ملبے پرجشن مناتے آئے،اوراب نئی صدی میں پاکستان،افغانستان،ایران اورترکی کی قوت کومٹی میں ملانےکی تدبیریں کررہے ہیں۔ پاکستان کا قصوریہ ہے کہ وہ ایٹمی طاقت ہے۔افغانستان کی خطایہ ہے کہ وہ غیرت کاآخری قلعہ ہے۔ایران کاجرم یہ ہے کہ وہ جھکتا نہیں۔ترکی کاگناہ یہ ہے کہ وہ خلافت کاوارث ہے۔ انہیں علم ہے کہ اگریہ چارقوتیں ایک ہوگئیں،توان کے ون ورلڈآرڈرکی بنیادیں لرزجائیں گی۔ کیاتمہیں معلوم ہے؟ اب ’’تلوار‘‘ میزائل کی شکل میں نہیں،اتحادکی حکمت میں ہے۔اب جنگ ’’بارود‘‘سے نہیں،بیانیے سے جیتی جاتی ہے اور بیانیہ وہی غالب آتاہے جس میں حق،اخلاق، شجاعت اوربصیرت ہو۔اگرہم صرف نمازکی صف میں کندھے سے کندھا ملاسکتے ہیں، توسیاست،معیشت ،سائنس، ٹیکنالوجی، سفارت اورعسکری حکمت میں کیوں نہیں؟امت کے سرپرایک قیادت کیوں نہیں؟او آئی سی کے اجلاسوں سے آگے کب قدم بڑھے گا؟
(جاری ہے)

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: وقت ہے

پڑھیں:

ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ

تہران / منامہ: ایران کی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحرین میں امریکی ٹیکنالوجی کمپنی ایمیزون کے ایک ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کے خلاف جاری جوابی اقدامات کا حصہ ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کا ہدف امریکی کمپنی ایمیزون کی وہ ڈیٹا تنصیب تھی جو ان کے بقول امریکی فوج کو معلوماتی معاونت فراہم کرنے میں کردار ادا کر رہی تھی۔

بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کے حق میں فوری طور پر کوئی شواہد یا مزید تفصیلات پیش نہیں کیں۔

دوسری جانب خبر شائع ہونے تک امریکی کمپنی ایمیزون، بحرین کی حکومت یا امریکی حکام کی جانب سے ایران کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے یا اس کے ممکنہ نقصانات کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ایران نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں وہ تمام فوجی اڈے یا تنصیبات جو امریکا ایران کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کرتا ہے، ایران کی نظر میں جوابی حملوں کے لیے جائز ہدف ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کے دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ پہلی بار ہوگا کہ کسی بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنی کی تنصیب کو ایران نے براہِ راست اپنی فوجی کارروائی کا ہدف قرار دیا ہے۔ تاہم اس معاملے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دیں
  • ایران نے عراق کے ذریعے بھیجی گئی امریکی جنگ بندی کی تجویز مسترد کر دی، امریکی اخبار کا دعویٰ
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  • فکر اقبالؒ اورامن عالم میں پاکستان کاکردار
  • اسلامی اقدار اور جدید دور
  • فیلڈ مارشل عاصم منیر پھر مرکز نگاہ
  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • ماہرینِ صحت کی دوپہر کے کھانے میں غذائیت سے بھرپور سلاد کو معمول کا حصہ بنانے کی سفارش
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر