بھارتی حملے کا ممکنہ خطرہ، ملک کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
کراچی:
بھارتی فضائی حملوں کے خدشے کے پیش نظر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے وفاق کے تمام سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا حکم دے دیا۔
وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں میری ترجیح عوام کی صحت کا تحفظ ہے۔ تمام ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈیکل اسٹاف اور انتظامی عملے کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئیں، تمام طبی عملے کو فوری طور پر ڈیوٹی پر حاضر ہونے کی ہدایت کر دی ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وفاقی وزیرِ صحت نے جنیوا اور قطر کے طے شدہ سرکاری دورے منسوخ کر دیے جبکہ وفاقی ادارہ صحت میں 24/7 ایمرجنسی کوئیک ریسپانس سینٹر قائم کر دیا ہے۔ ایمرجنسی سینٹر جنگی حالات سے متعلق فوری ردعمل کے لیے فعال کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تمام صوبائی و ضلعی ہیلتھ اتھارٹیز سے براہِ راست رابطے کا نظام قائم کر دیا ہے، صوبائی صحت سیکرٹریز کو وزارتِ صحت سے مستقل رابطے میں رہنے کی ہدایت کر دی ہے اور تمام صوبوں کو ایمرجنسی پلان اپ ڈیٹ کرنے کا پابند بنا دیا گیا۔
سندھ حکومت نے بھی تمام سرکاری اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے عملے کی چھٹیاں منسوخ اور طبی سہولیات کو الرٹ کر دیا ہے جب کہ غفلت برتنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی وارننگ دی گئی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل صحت سندھ نے تمام ضلعی، تعلقہ اور بنیادی صحت مراکز کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
جاری کردہ مراسلے کے مطابق تمام طبی اور غیر طبی عملے کی چھٹیاں فوری طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ڈاکٹرز، نرسز، پیرامیڈکس سمیت تمام عملے کو 24 گھنٹے ڈیوٹی پر موجود رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ایمرجنسی یونٹس کو مکمل طور پر ہائی الرٹ پر رکھا جائے جبکہ اسپتالوں میں ایمرجنسی ادویات، آکسیجن، سرجیکل سامان اور خون کی دستیابی ہر حال میں یقینی بنائی جائے۔ عملے کو ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مسلسل رابطے میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مراسلے میں خبردار کیا گیا ہے کہ کسی قسم کی کوتاہی یا غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہنے کی ہدایت اسپتالوں میں وفاقی وزیر کر دیا
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز