اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 07 مئی ۔2025 )وزیراعظم شہبازشریف نے کہا ہے کہ ہم نے احتیاط سے کام لیا چاہتے تو انڈیا کے 10 طیارے گرا سکتے تھے ہم جوہری طاقت ہیں لیکن کل رات ہم نے روایتی ہتھیاروں سے ہی انڈیا کو پیچھے چھوڑ دیا کل کا جو واقعہ ہوا جس میں اللہ نے پاکستان کو عظیم فتح عطا فرمائی اس کی وجہ ہماری بھرپور تیاری اور مسلح افواج کی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے.

(جاری ہے)

قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہاکہ ہمیں اتحاد کی ضرورت ہے اور میں پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتوں سے ملک کی ترقی اور دفاع میں متحد ہونے کی دعوت دیتا ہوں اور یہی موقع ہے کہ پاکستان کو عظیم ملک بنایا جائے انہوں نے کہا کہ تمام عسکری قیادت کو یہ ایوان ایک قرارداد کے ذریعے خراج تحسین پیش کرتا ہے قومی اسمبلی اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ اس حملے میں خواتین اور بچوں سمیت کئی افراد کی اموات ہوئیں.

پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے الزام کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا دور دور تک اس سے واسطہ نہیں ہم نے کہا تھا کہ اگر کسی کو شک ہے تو اس کی شفاف تحقیقات کروائی جائیں پاکستان تعاون کرے گا لیکن انڈیا نے ہماری پیشکش کو قبول نہیں کیا. انہوں نے بتایا کہ ان حالات میں ہر روز اطلاع ملتی تھی کہ آج انڈیا کے جہاز آئیں گے ہماری افواج 24 گھنٹے تیار تھیں کہ کب دشمن کے جہاز اڑیں اور انہیں سمندر میں پھینک دیں شہباز شریف نے کہا کہ انڈیا نے فرانس سے رفال طیارے خریدے جس پر اسے ناز تھا ہم نے چند روز پہلے ہی انہیں انٹرسیپٹ کر کے لاک کر دیا تھا اور وہ فوری پلٹ کر سری نگر میں لینڈ کر گئے.

وزیراعظم نے کہاکہ ہمیں لمحہ بہ لمحہ خبریں مل رہی تھی انڈیا نے کل رات پوری تیاری کے ساتھ حملہ کیا 80 جہاز اس حملے میں شریک تھے کشمیر کے دو علاقوں، بہاولپور، شیخوپور اور سیالکوٹ میں انڈین طیاروں نے حملہ کیا وہ مکمل تیاری میں تھے جونہی ان کے جہازوں نے پے لوڈ ریلیز کیے ہمارے عقاب ان پر جھپٹے اور آناً فاً پانچ مار گرائے جن میں سے تین رفال تھے جو کشمیر اور بھٹنڈا میں جا کر گرے.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے نے کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا

وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔

متعلقہ مضامین

  • میسی ارجنٹائن کے صدر بنیں گے؟ نئی پیشگوئی نے سب کو حیران کردیا
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت