اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی رہنما پر مبینہ تشدد، دو ایس ایچ اوز سمیت 3 افسران معطل
اشاعت کی تاریخ: 7th, May 2025 GMT
راولپنڈی:
سی پی او راولپنڈی کی ہدایت پر اڈیالہ جیل کے باہر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیف وہپ عامر ڈوگر پر مبینہ تشدد کے معاملے پر دو ایس ایچ اوز اور ایک اے ایس آئی کو معطل کردیا گیا۔
سی پی او راولپنڈی کی ہدایت پر پولیس افسران کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، جس میں کہا گیا ہے کہ اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر پر پولیس کے مبینہ تشدد کا معاملے پر راولپنڈی پولیس کے دو ایس ایچ اوز اور ایک اے ایس آئی کو معطل کر دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق معطل ایس ایچ اوز میں ایس ایچ او چکری سب انسپکٹر طیب بیگ، ایس ایچ او دھمیال سب انسپکٹر سلیم قریشی اور تھانہ چکری میں تعینات اے ایس آئی ماجد شامل ہیں۔
مزید بتایا گیا ہے کہ معطل پولیس افسران سے فوری طور پر عہدوں کا چارج بھی واپس لے لیا گیا اور مذکورہ پولیس افسران کو کلوز لائن بھی کر دیا گیا ہے۔
راولپنڈی پولیس کے معطل افسران کے خلاف انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ڈی پی او جہلم کو انکوائری افسر مقرر کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کر دیا گیا ہے ایس ایچ اوز ایس ایچ او
پڑھیں:
مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
نیویارک:اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور پورا خطہ ایک ایسے خطرناک موڑ پر پہنچ چکا ہے جس کے نتائج ناقابلِ تصور ہو سکتے ہیں۔
سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انتونیو گوتریس نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ ناقابلِ تصور تباہی کے کنارے پر کھڑا ہے اور خطہ مسلسل وسیع ہوتے ہوئے تصادم کے دائرے میں کھنچتا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صورتحال قابو سے باہر ہو رہی ہے ایک بحران دوسرے بحران کو جنم دے رہا ہے جبکہ ہر روز نئی کشیدگی مزید خطرناک حالات پیدا کر رہی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے سربراہ کے مطابق جیسے جیسے تنازع پھیل رہا ہے ویسے ویسے سیاسی مقاصد پس منظر میں چلے جا رہے ہیں اور تصادم خود ہی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ مزید کشیدگی کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں کیونکہ موجودہ حالات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔