بھارتی حکام نے تین طیارے گر کر تباہ ہونے کی تصدیق کر دی
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
بھارتی حکام نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ تین بھارتی طیارے گر کر تباہ ہوئے ہیں، تاہم تفصیلات فی الحال واضح نہیں ہیں۔
پاک فوج کے ترجمان کے مطابق پاک فضائیہ نے بدھ کی رات بھارت کی جانب سے کی گئی فضائی جارحیت کا مؤثر جواب دیتے ہوئے پانچ بھارتی جنگی طیارے مار گرائے جن میں تین جدید رافیل طیارے بھی شامل ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق بھارتی سیکیورٹی آفیشل نے نام نہ بتانے کی شرط پر اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ بھارت کے تین طیارے گر کر تباہ ہوئے ہیں تاہم تفصیلات فی الحال واضح نہیں ہیں۔
مزید دو سیکیورٹی حکام نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چند بھارتی طیارے حادثے کا شکار ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے اس واقعے کی مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔
مزید پڑھیں: بھارت کا پاکستان پرحملہ، پاک فضائیہ نے 5بھارتی طیارے اور 7ڈرونز مار گرائے، بریگیڈ ہیڈکوارٹر بھی تباہ
ایک معروف امریکی جریدے نے بھی عینی شاہدین کے بیانات کی روشنی میں رپورٹ کیا ہے کہ ایک طیارہ بھارتی پنجاب میں جبکہ دوسرا مقبوضہ کشمیر میں گرا۔ تجزیے سے معلوم ہوا کہ مقبوضہ کشمیر میں تباہ ہونے والا طیارہ ممکنہ طور پر رافیل یا میراج تھا۔ تاہم، طیارے کے فیول ٹینک سے یہ ثابت نہیں ہوسکا کہ یہ طیارہ دشمن کی کارروائی کا نشانا بنا ہے یا تکنیکی خرابی کا شکار ہوا ہے۔
بھارتی اخبار "دی ہندو" نے ابتدائی طور پر پاکستانی دعوے کی تصدیق کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر تباہ شدہ طیاروں کی تصاویر شائع کیں، مگر کچھ دیر بعد ہی اس پوسٹ کو ہٹا دیا گیا اور بعدازاں اخبار نے ایک بیان میں کہا کہ چونکہ بھارتی حکومت نے باضابطہ طور پر طیارے گرائے جانے کی تصدیق نہیں کی اس لیے اس خبر کو ہٹایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان نے بھارت کا رافیل طیارہ مار گرایا ہے؛ امریکی میڈیا کی تصدیق
دوسری جانب فرانس کے ایک اعلیٰ انٹیلیجنس اہلکار نے امریکی میڈیا کو بتایا ہے کہ پاکستان نے واقعی بھارتی فضائیہ کا ایک رافیل طیارہ مار گرایا ہے اور مزید رافیل طیارے گرنے سے متعلق تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی تصدیق کر
پڑھیں:
افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
افغانستان کے صوبہ نورستان میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 40 سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ متعدد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ امدادی اور ریسکیو کارروائیاں بدستور جاری ہیں، تاہم متاثرہ علاقوں میں خوراک، صاف پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن دوجارک نے نیوز بریفنگ میں بتایا کہ حالیہ سیلاب نے نورستان میں گھروں، سرکاری عمارتوں اور تجارتی مراکز کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں، جبکہ ہلاکتوں اور نقصانات کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔
Las devastadoras inundaciones que
azotan la provincia oriental de Nuristan han dejado un saldo
preliminar de al menos 20 muertos, 80 heridos y más de 100
personas desaparecidas, incluido el alcalde de la capital
provincial de Parun. pic.twitter.com/f2pXZ5kCgA
— Guillermo Gomez (@G_GomezJ) July 22, 2026
اقوام متحدہ کے مطابق متاثرہ علاقوں میں موبائل ہیلتھ ٹیمیں تعینات کر دی گئی ہیں، طبی مراکز کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور خوراک، ادویات اور دیگر ہنگامی امدادی سامان کی فراہمی کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ متاثرین کو فوری طور پر عارضی رہائش، خوراک، طبی سہولیات، بنیادی استعمال کی اشیا اور نفسیاتی معاونت کی ضرورت ہے۔
دوسری جانب عالمی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) نے کہا ہے کہ اچانک آنے والے سیلاب سے گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کے باعث متعدد خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ ادارے کے مطابق کئی متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی اور خوراک تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ امدادی ٹیمیں نقصانات کا جائزہ لے کر فوری امداد کی فراہمی کی تیاری کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں قیامت خیز سیلاب، 23 افراد جاں بحق، 100 لاپتا
طالبان حکام نے ابتدائی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی تھی اور کہا تھا کہ 100 سے زائد افراد لاپتا جبکہ 80 زخمی ہیں، تاہم اقوام متحدہ اور دیگر ذرائع کے مطابق اب ہلاکتیں 40 سے بڑھ چکی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ریسکیو اور نقصانات کے تخمینے کا عمل جاری ہے، اس لیے اعداد و شمار میں مزید تبدیلی آ سکتی ہے۔
آئی او ایم نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان حالیہ برسوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث قدرتی آفات کا زیادہ شکار ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور ’ایل نینو‘ جیسے موسمی عوامل شدید بارشوں اور اچانک سیلاب کے خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں، جبکہ افغانستان کی جغرافیائی اور معاشی کمزوری اسے ایسی آفات کے لیے مزید حساس بناتی ہے۔ عالمی ادارے نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ متاثرہ آبادی کو ہنگامی امداد کی فراہمی میں افغان حکام کی معاونت جاری رکھے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
افغانستان سیلاب نورستان