سرینگر میں سینٹرل کنٹرول روم قائم، تمام سرکاری ملازمین کی چھٹیاں منسوخ
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
حکومت نے تمام انتظامی سیکرٹریوں اور محکموں کے سربراہوں سے کہا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات کے علاوہ ملازمین کی کسی بھی چھٹی کو منظور نہ کریں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی حکام نے کشیدہ حالات کی نگرانی کے لئے سرینگر میں ایک مرکزی کنٹرول روم قائم کیا ہے۔ ایک حکم نامے میں مقامی ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ موجودہ صورتحال کے پیش نظر ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آپریشن سینٹر (DEOC)، ڈپٹی کمشنر، سرینگر کے دفتر میں ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (DDMA)، سرینگر کی مجموعی نگرانی میں ایک مشترکہ کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے کنٹرول روم کشمیر کے 10 اضلاع میں قائم کئے گئے ہیں۔ ضلع مجسٹریٹ نے کہا کہ کنٹرول روم 24 گھنٹے کام کرے گا اور اسے بین ڈپارٹمنٹل کوآرڈینیشن، جاری پیشرفت کی نگرانی اور معلومات کی بروقت ترسیل کو یقینی بنانے کے لئے ڈیزائن کیا جائے گا۔
حکم نامے میں کہا گیا "یہ عام لوگوں کے لئے شکایت کے ازالے کے پلیٹ فارم کے طور پر بھی کام کرے گا، جو حقیقی وقت میں پیدا ہونے والے مسائل کے موثر حل بنائے گا"۔ دریں اثنا جموں و کشمیر حکومت نے تمام انتظامی سیکرٹریوں اور محکموں کے سربراہوں سے کہا ہے کہ وہ غیر معمولی حالات کے علاوہ ملازمین کی کسی بھی چھٹی کو منظور نہ کریں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کو بہانہ بنا کر ہندوستانی مسلح افواج نے منگل کی رات دیر گئے پاکستان پر میزائل اور ڈرون حملے کئے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کنٹرول روم
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔