پاکستان میں ہونیوالی دہشتگری کے پیچھے بھارت ہے،راجہ پرویز اشرف
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہاہے کہ پاکستان میں جتنے بھی دہشتگردی کے واقعات ہوئے وہ بھارت نے کرائے،مودی سب سے بڑا دہشتگرد ہے انہوں نے کہا کہ ملک کی خاطر ہمیں اپنے اختلافات کو ختم کرنا ہوگا،پہلگام واقعہ میں پاکستان ملوث نہیں،پہلگام واقعہ بھارت نے خود کرایا، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ جعفر ایکسپریس واقعہ بھارت نے کرایا، ہمارے جوان وطن کی خاطر اپنی جانیں قربان کررہے ہیں، پوری قوم پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
مودی سن لو میلی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش تو وہ تمہاری آنکھ ہی نکال دیں گے راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ پاک فوج بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔پاکستان کوکوئی توڑ نہیں سکتا۔راوی ،ستلج ہمارا ہے،کوئی نہیں روک سکتا، ہمارا کوئی پانی نہیں روک سکتا، مودی بزدل ہے جو ایسی حرکات کررہاہے، ہم سب ملک کر مودی کو عبرتناک شکست دیں گے ۔
عوام کیلئے خوشخبری ، ملک بھرکیلئے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں اربوں کا ریلیف متوقع
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: راجہ پرویز اشرف
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔