پاکستانی شہریوں نےبھارتی رافیل کے پرزےOLX پرلگادیے
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
لاہور(نیوز ڈیسک) حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران پاکستان کی جانب سے بھارتی رافیل طیارہ مار گرانے کے بعد حیرت انگیز اور دلچسپ مناظر دیکھنے کو ملے—کچھ پاکستانیوں نے طیارے کے بچے کھچے پرزے مشہور آن لائن پلیٹ فارم OLX پر بیچنے کے لیے لگا دیے۔
سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر اور اسکرین شاٹس میں دکھایا گیا ہے کہ OLX پر “رافیل کا پَر”، “بھارتی مگ کے انجن کا پرزہ”، اور “اصلی بھارتی ڈرون کا پنکھا” جیسے عنوانات کے ساتھ مزاحیہ اشتہارات لگائے گئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ”فخر سے بھارتی ٹیکنالوجی بیچ رہے ہیں!”۔ “رافیل کے اصلی پرزے، صرف پاکستانی سرزمین پر دستیاب! دشمن کا غرور، اب آپ کے ڈرائنگ روم میں۔”
کچھ اشتہارات میں پرزوں کی قیمت 5 ہزار سے لے کر 1 لاکھ روپے تک رکھی گئی۔ کچھ نے تو ‘ریٹ’ کے ساتھ لکھا کہ”صرف پاکستانیوں کے لیے ڈسکاؤنٹ، انڈیا والوں کے لیے نہیں!”
تاحال کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اس پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا، تاہم سوشل میڈیا پر یہ معاملہ زبردست توجہ حاصل کر چکا ہے۔
پاکستانیوں نے ہمیشہ ہر موقع کو مزاح، میمز اور تخلیقی انداز میں بیان کرنے کا فن دکھایا ہے۔ رافیل طیارے کے گرنے کے بعد اس کے پرزوں کا OLX پر فروخت کرنا بظاہر ایک لطیفہ لگتا ہے، لیکن درپردہ یہ جذبہ، خود اعتمادی اور ڈیجیٹل مزاح کا امتزاج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔