مودی کی بھارتی پنجاب پر حملہ کرکے پاکستان پر الزام لگانے کی سازش ،مقصد سکھوں کو پاکستان مخالف کرنا ہے:ذرائع
اشاعت کی تاریخ: 8th, May 2025 GMT
مودی کی بھارتی پنجاب پر حملہ کرکے پاکستان پر الزام لگانے کی سازش ،مقصد سکھوں کو پاکستان مخالف کرنا ہے:ذرائع WhatsAppFacebookTwitter 0 8 May, 2025 سب نیوز
نئی دہلی (سب نیوز )بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان کے خلاف ایک اور خطرناک سازش بے نقاب ہوگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے خود بھارتی پنجاب پر حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے تاکہ اس کا الزام پاکستان پر لگا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کیا جا سکے۔ اس مجوزہ فالس فلیگ آپریشن (مودی سرکار کی سازش) کا مقصد بھارتی سکھوں کی ہمدردی اور حمایت حاصل کرنا ہے، جو پہلے ہی پاکستان کے حق میں بیانات دے چکے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی پنجاب کے سکھوں نے پاکستان کے خلاف مودی کا ساتھ دینے سے انکار کیا تھا۔ سکھ برادری پاکستانی پنجاب کو مقدس سرزمین مانتی ہے اور وہ پاکستان پر حملے کے حق میں نہیں ہیں۔مودی حکومت کی کوشش ہے کہ بھارتی سکھوں کو اپنے ساتھ ملا کر لاہور اور سیالکوٹ جیسے پاکستانی شہروں پر جارحیت کا جواز پیدا کرے، تاہم بھارتی فوج کو پاکستان کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام پر پاکستانی مسلح افواج کی جانب سے شدید مزاحمت اور ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ مودی کے عزائم ایک بار پھر خاک میں ملنے والے ہیں۔مودی کی یہ چال محض ایک سیاسی ڈراما ہے تاکہ بھارت کے اندرونی اختلافات اور اقلیتوں کی ناراضگی سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ بھارتی سکھوں کی پاکستان سے عقیدت اور پاکستان مخالف مہم کا حصہ بننے سے انکار کے بعد مودی کی یہ چال کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرسفید جھنڈے لہرانے اور مہلت ملتے ہی حملہ کرنے والوں کو سبق سکھانے کا لمحہ قریب آرہا ہے، عرفان صدیقی سفید جھنڈے لہرانے اور مہلت ملتے ہی حملہ کرنے والوں کو سبق سکھانے کا لمحہ قریب آرہا ہے، عرفان صدیقی آذربائیجان کا بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان کا بھرپور ساتھ دینے کا اعلان پاکستان پر بھارتی حملے میں استعمال ہونے والا اسرائیلی ہیروپ ڈرون کیا ہے؟ پاک بھارت کشیدگی: آئی جی پنجاب کا صوبے میں سکیورٹی بڑھانے کا حکم اٹک میں بھارتی ڈرون تباہ، ایک شہری شہید، پولیس عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس ریگولر بنچ کو بھجوا دیا گیاCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: بھارتی پنجاب پاکستان پر مودی کی
پڑھیں:
تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظات
پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا
پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل
عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟
گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔