ٹرمپ کی نو منتخب پوپ لیو چہاردہم کو مبارک باد
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رابرٹ پری ووسٹ کو رومن کیتھولک چرچ کی تاریخ میں پہلے امریکی پوپ کے طور پر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور جلد ملنے کی خواہش کا اظہار بھی کردیا۔
کیتھولک مسیحیوں کے نئے روحانی پیشوا رابرٹ پری ووسٹ پوپ منتخب ہونے کے بعد پوپ لیو چہاردہم کہلائیں گے۔
امریکی صدر نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر نومنتخب امریکی پوپ لیو چہاردہم کےلیے پیغام جاری کیا۔
انہوں نے لکھا کہ کارڈینل رابرٹ فرانسس پری ووسٹ کو مبارک ہو، جنہیں ابھی پوپ منتخب کیا گیا ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی لکھا کہ یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ پہلے امریکی پوپ ہیں۔ یہ انتہائی جوش اور ہمارے ملک کےلیے بڑے تعظیم و تکریم کی بات ہے۔ میں پوپ لیو چہاردہم سے ملاقات کا منتظر ہوں۔ یہ ایک بہت معنی خیز لمحہ ہو گا۔
واضح رہے کہ ویٹیکن سٹی میں نئے پوپ کا انتخاب کم از کم 4 مرتبہ کی ووٹنگ کے بعد ہوا ہے۔ 133 رومن کیتھولک کارڈینلز نے نئے پوپ کے انتخاب کے لیے خفیہ ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔
نئے پوپ کا انتخاب ہونے پر سیسٹن چیپل کی چمنی سے سفید دھواں خارج کیا گیا اور سینٹ پیٹرز باسیلیکا میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق نئے روحانی پیشوا رابرٹ پری ووسٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کے ناقد ہیں۔
انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کی تھی۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی صدر پری ووسٹ
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔