Islam Times:
2026-06-03@08:07:49 GMT

اپریل میں 2025ء میں ورکرز ترسیلات 3.2 ارب ڈالر رہیں

اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT

اپریل میں 2025ء میں ورکرز ترسیلات 3.2 ارب ڈالر رہیں

مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں ورکرز ترسیلات 30 فیصد اضافے سے 31.2 ارب ڈالر رہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سال 2025ء کے چوتھے ماہ میں بیرونِ ملک مقیم (اوورسیز) پاکستانیوں نے 3.2 ارب ڈالر ملک بھیجے ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق اپریل 2025ء میں ورکرز ترسیلات 3.2 ارب ڈالر رہیں۔  اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اپریل 2025ء کی ورکرز ترسیلات اپریل 2024ء کے مقابلے 13.

10 فیصد زائد ہیں، مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں ورکرز ترسیلات 30 فیصد اضافے سے 31.2 ارب ڈالر رہیں۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق سعودی عرب سے اپریل میں 72.54 کروڑ ڈالر کی ورکرز ترسیلات موصول ہوئیں، جبکہ یو اے ای سے اپریل میں 65.76 کروڑ ڈالر کی ورکرز ترسیلات موصول ہوئیں۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: میں ورکرز ترسیلات ارب ڈالر رہیں

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد: کفایت شعاری مہم کے تحت نئے کاروباری اوقات کار سامنے آ گئے
  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • مزدوروں کیلئے خوشخبری، کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز رات 9، ریسٹورنٹ 11 بجے تک کھلیں گے
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان