بھارتی جنون کا منہ توڑ جواب دینا ضروری ہوگیا ہے؛ چوہدری شجاعت حسین
اشاعت کی تاریخ: 9th, May 2025 GMT
سٹی 42 : پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ بھارت اپنے جنگی جنون اور اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، بھارتی جنون کا منہ توڑ جواب دینا ضروری ہوگیا ہے ، مساجد،بچوں اور عورتوں کی شہادت غیر معمولی واقعہ نہیں بدلے تک قوم سکون سے سو نہیں سکے گی ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز پارٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ، اجلاس میں سنیر نائب صدر چوہدری سالک حسین، ممبر قومی اسمبلی مسز فرخ خان، چیف آرگنائزر ڈاکٙٹر محمد امجد، سیکرٹری جنرل طارق حسن،مرکزی سیکرٹری اطلاعات مصطفیٰ ملک ، صدر مسلم لیگ پنجاب ملک ثمین خان، مرکزی راہنما ملک کامران منیر شریک تھے۔
مری میں ’’پاک فوج زندہ باد ‘‘ ریلی
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ جنگیں صرف گولی ، بارود سے نہیں جزبہ ایمانی اور بہادری سے لڑی جاتی ہیں جن میں پاکستان کا کوئی ثانی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے رات کی تاریکی میں جو بزدلانہ کا حملہ کیا ہے اس کو ہماری افواج نے بڑی دلیری سے نہ صرف پسپا کیا بلکہ دشمن کو بھاری نقصان بھی پہنچایا یہ سب سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت ممکن ہوا ۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ دنیا میں جنگیں رہتی ہیں مگر کبھی نہیں ہوا کہ مذہبی عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا ہو ، مساجد اور مدارس پر پر حملوں میں بے گناہوں پر پاکستانی ہی نہیں دنیا بھر کا مسلمان دکھی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی جنگ کا انحصار ہتھیاروں یا عددی برتری پر منحصر نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے ایمانی اور بہادری ضروری ہے ہماری افواج، جوان اور عوام بھارت کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں ۔
سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اسلام آباد پہنچ گئے
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: چوہدری شجاعت حسین نے کہا
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔