پاکستان کا بھارت کیخلاف آپریشن بنیان المرصوص؛ نئی دہلی میں پاکستانی ڈرونز کی پروازیں
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاکستان نے بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے آپریشن "بنیان المرصوص" کا آغاز کر دیا ہے جس کے بعد بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں پاکستانی ڈرونز کی پروازیں دیکھی گئی ہیں۔
سکیورٹی ذرائع کے مطابق فجر کے وقت آپریشن کا آغاز کیا گیا جس کے تحت بھارت میں 12 اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فتح ون میزائل داغا گیا جس کے نتیجے میں ادھم پور، پٹھان کوٹ ایئربیس اور براہموس میزائل اسٹوریج کو تباہ کر دیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق اس وقت نئی دہلی کی فضاؤں میں پاکستانی ڈرونز کی مسلسل پروازیں جاری ہیں جس سے بھارت کے دارالحکومتی حلقوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی ڈرونز کی موجودگی بھارت کے دفاعی نظام پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہی ہے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے اس کارروائی کو دشمن کے جارحانہ اقدامات کے خلاف ایک منظم اور ٹھوس ردِعمل قرار دیا جا رہا ہے جبکہ بھارت کی جانب سے تاحال سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ پاکستان نے بھارتی جارحیت کے جواب میں مؤثر اور بھرپور جوابی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے آپریشن بُنْيَانٌ مَّرْصُوْصٌ کا آغاز کر دیا اور پاکستان نے بیاس کے علاقے میں براہموس اسٹوریج سائٹ اور بھارتی ایئر بیس ادھم پور اور پٹھان کوٹ ایئر بیس کو تباہ کر دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستانی ڈرونز کی کا آغاز کر کر دیا
پڑھیں:
پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
میانمار میں پاکستان کے سفیر طارق کریم(Tariq kareem) نے اپنی رہائش گاہ پر پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔
عشائیے میں یونین آف میانمار فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (UMFCCI) کے صدر، نائب صدر، میانمار چیمبر آف کامرس فار فارماسیوٹیکل اینڈ میڈیکل ڈیوائسز (MCCPMD) کے چیئرمین، دیگر معروف کاروباری شخصیات اور فارمیٹیک پاکستان (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے وفد نے شرکت کی۔
اس موقع پر سفیر طارق کریم اور معزز مہمانوں کے درمیان خوشگوار اور بامقصد تبادلہ خیال ہوا، جس میں پاکستان اور میانمار کے درمیان تجارت و اقتصادی تعاون کو مزید فروغ دینے، بالخصوص ادویہ سازی، ٹیکسٹائل اور دیگر اہم شعبوں میں تعاون بڑھانے، جبکہ دونوں ممالک کے نجی شعبوں کے درمیان براہ راست روابط (B2B Linkages) کو مضبوط بنانے کے امکانات پر گفتگو کی گئی