پاکستانی سائبر حملے ، بی جے پی کی آفیشل ویب سائٹ سمیت 25 سو سے زائد سرویلنس کیمرے ہیک
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
نئی دہلی(نیوزڈیسک)پاک بھارت سائبر محاذ پر کشیدگی میں نیا موڑ آ گیا ہے جہاں پاکستانی ہیکرز کی جانب سے درجنوں اہم بھارتی ویب سائٹس کو ہیک کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس سائبر حملے کا نشانہ بی جے پی (بھارتیہ جنتا پارٹی) کی آفیشل ویب سائٹ سمیت کئی حساس اور کلیدی ادارے بنے۔
ذرائع کے مطابق، ہیک کی گئی ویب سائٹس میں کرائم ریسرچ انویسٹیگیشن ایجنسی، ماہا نگر ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ، بھارت ارتھ موورز لمیٹڈ، اور آل انڈیا نیول ٹیکنیکل سپروائزری اسٹاف ایسوسی ایشن شامل ہیں۔ ان ویب سائٹس کا مکمل ڈیٹا یا تو ڈیلیٹ کر دیا گیا یا ناقابلِ رسائی بنا دیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ، ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ، بارڈر سیکیورٹی فورسز (BSF)، اور یونیک آئیڈنٹیفیکیشن اتھارٹی آف انڈیا (UIDAI) جیسے حساس اداروں کا ڈیٹا بھی لیک کر دیا گیا ہے۔ لیک ہونے والے ڈیٹا میں انڈین ایئر فورس، مہاراشٹر الیکشن کمیشن اور دیگر سرکاری ادارے شامل ہیں۔
مزید برآں، حملے میں بھارت بھر میں نصب 2500 سے زائد سرویئلنس کیمروں کو بھی ہیک کر لیا گیا ہے، جس سے ملکی سیکیورٹی نظام کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔
سائبر ماہرین کے مطابق یہ حملہ انتہائی منظم اور مربوط نظر آتا ہے، جس کا مقصد نہ صرف حساس معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا بلکہ بھارت کے سائبر انفراسٹرکچر کو غیر مستحکم کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
جے ایف-17 تھنڈر کے ہائپر سونک وار، بھارت کا S-400 سسٹم اور سورت گڑھ ایئرفیلڈ تباہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: ا گیا ہے
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :