پاک بھارت کشیدگی؛ آئی پی ایل کو کتنا نقصان ہورہا ہے؟ حیران کُن رپورٹ سامنے آگئی
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاک بھارت کشیدگی کے باعث گزشتہ روز انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کو غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا تھا۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی نے کرکٹ کی دنیا پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کے نتیجے میں آئی پی ایل 2025 اور پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچز معطل کر دیے گئے ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انڈین پریمئیر لیگ (آئی پی ایل) کے ایک میچ کی منسوخی کے باعث بھارتی بورڈ کو ٹی وی حقوق، اسپانسرشپ، ٹکٹ فروخت مد میں 125 کروڑ روپے فی میچ نقصان برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل کو کب تک کیلئے ملتوی کیا گیا؟ نائب صدر نے بتادیا
بھارتی بورڈ کو اب تک 4 میچز منسوخ ہونے سے 500 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ ٹورنامنٹ مکمل طور پر ختم ہوا تو 3 ہزار کروڑ سے زائد کا نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
رپورٹس کے مطابق فرنچائز مالکان بھارتی خسارے سے پریشان ہیں جبکہ اسپانسرز معاہدے ختم کرسکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: جارحیت گلے پڑ گئی؛ بھارت پاکستان کا ردعمل برداشت نہیں کر سکا، آئی پی ایل معطل
قبل ازیں بھارت کو پاکستان کے خلاف جارحیت کے بعد ناکامی کا منہ دیکھنے کے نتیجے میں نہ صرف عالمی سطح پر بلکہ اندرونی طور پر بھی شدید دباؤ کا سامنا ہے، جس کے بعد مودی سرکار اپنی ناکامیاں چھپانے کے لیے آئی پی ایل ملتوی کرنے سمیت دیگر پسپائی کے فیصلے کرنے پر مجبور ہوئی۔
مزید پڑھیں: آئی پی ایل میچ کی منسوخی! چیئرلیڈر نے بھی سیکیورٹی پر سوال اٹھادیا
دوسری جانب گزشتہ روز آئی پی ایل میچ کے دوران میچ رکوا کر شائقین کرکٹ کو اسٹیڈیم سے باہر نکال دیا تھا جس کے بعد کھلاڑیوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
مزید پڑھیں: "ہماری نسلیں گولیوں کی تڑتڑاہٹ اور دھماکوں کی گونج میں بڑی ہوئی ہیں"
واضح رہے کہ پہلگام واقعے کے بعد بھارتی جارحیت پر پاکستان نے منہ توڑ جواب دیا تھا جس کے باعث فوجی چوکیوں سمیت رافیل طیاروں تباہ ہوگئے، جس سے ہندوستانی حکمرانوں کو دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ا ئی پی ایل مزید پڑھیں کے بعد
پڑھیں:
پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
خلیج میں جاری لڑائی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستانی بندرگاہوں پر تجارتی مصروفیات تیز ہو گئیں۔
عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14 ہزار300 سے بڑھ جائے گی۔ خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔
میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے۔ سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں۔ پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔