پاکستان جارحیت دیکھانے والا خود گھٹنوں پر آگیا; بھارت کا شدید جانی و مالی نقصان اٹھانے کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 10th, May 2025 GMT
پاکستان کے تین فضائی اڈوں پر بھارتی میزائل حملوں اور ڈرون حملوں کے بعد پاکستان نے جواب میں آپریشن ’’بُنْيَانٌ مَّرْصُوْص‘‘ کا آغاز کیا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق ہفتے کی شام 5 بجے سے اب تک بھارت کو شدید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ جس کے بعد بھارتی فوج نے اعترافی بیان میں کہا کہ پاک فوج نے ایئر بیسز سمیت 26 مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ بھارت کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی پیشکش بھی کردی گئی۔بھارتی فضائیہ کی ترجمان ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ نے پریس بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے بھارت کی مغربی سرحد پر ’’متعدد خطرناک‘‘ کارروائیاں کیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے ڈرونز اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں سمیت مختلف اقسام کے اسلحے سے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا، جبکہ کنٹرول لائن کے ساتھ ساتھ ڈرونز اور بھاری ہتھیاروں کے ذریعے فضائیہ کے اہداف پر حملے کیے۔ ترجمان بھارتی فوج نے کہا کہ پاکستان کے حملوں سے بھارت کو شدید نقصان پہنچا، پاکستان نے ادھم پور اور پٹھان کوٹ کو نشانہ بنایا، پنجاب کے ائیربیس اسٹیشن کو بھی نقصان پہنچا۔ پاکستانی حملے سے متعلق پریس بریفنگ کے دوران کرنل صوفیہ قریشی نے کہا کہ پاکستان نے ہفتے کی رات 1 بج کر 40 منٹ پر پنجاب ایئربیس کو ایک تیز رفتار میزائل سے نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سرحد اور ایل او سی پر سرینگر سے نلیا تک 26 سے زیادہ مقامات پر فضائی حملے کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ’ادھم پور، پٹھان کوٹ، آدم پور اور بھوج، بھٹنڈا سٹیشن جیسے ایئر سٹیشنز پر سازوسامان اور اہلکاروں کو نقصان پہنچا۔ انڈین فوج کی کرنل صوفیہ نے پریس کانفرنس کا آعاز کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان نے یو کیب ڈرونز، لانگ رینج ہتھیار، گولے بارود اور جنگی طیاروں کا استعمال کر کے انڈین فوجی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا۔ اسی پریس کانفرنس میں شریک انڈین سیکرٹری خارجہ وکرم مصری نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج کو اپنے فوجیوں کو آگے کے علاقوں میں منتقل کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے اور کہا کہ انڈین افواج تناؤ میں کمی کے اپنے عزم کا اعادہ کرتی ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بھارت کے نقصانات میں روسی ساختہ جدید ترین S-400 میزائل ڈیفنس سسٹم، چار ایئربیسز، پانچ ایئرفیلڈز، دو براہموس میزائل اسٹوریج سائٹس، ایک دہشت گردی کا کیمپ، بریگیڈ ہیڈکوارٹر، سپلائی ڈپو، آرٹلری گن پوزیشن اور لائن آف کنٹرول پر کئی فوجی پوسٹوں کی تباہی شامل ہے۔ سیالکوٹ کے قریب ایک بھارتی رافیل طیارہ اور ایک بڑا بھارتی ڈرون مار گرائے جانے کی بھی اطلاعات ہیں، تاہم سیکیورٹی ذرائع نے ان کی تصدیق نہیں کی۔ پاکستانی ڈرونز کی دہلی اور گجرات کی فضاؤں میں موجودگی کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بھارتی خبررساں ادارے اے این آئی اور ٹی وی9 نے بھی بعض حملوں کی تصدیق کی ہے، جن میں ادھم پور ایئربیس سے دھواں اٹھنا اور سرسہ ایئرفیلڈ پر دھماکوں کی آوازیں شامل ہیں۔ بھارتی میڈیا نے پٹھان کوٹ، پونچھ اور جموں ایئربیس پر حملوں کا بھی اعتراف کیا ہے۔ پاکستان نے اس آپریشن میں فَتح-1 اور فَتح-2 میزائلوں کا استعمال کیا، جو جدید نیویگیشن سسٹمز سے لیس اور انتہائی درستگی کے ساتھ دشمن اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ فوج کی جانب سے جاری ویڈیوز میں ان میزائلوں کو فائر کرتے دکھایا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: کو نشانہ بنایا پاکستان نے کہ پاکستان کہا کہ
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔