بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 11th, May 2025 GMT
بنگلہ دیش: شیخ حسینہ کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی عائد WhatsAppFacebookTwitter 0 11 May, 2025 سب نیوز
ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کی سیاسی جماعت عوامی لیگ پر پابندی لگا دی۔
معزول و مفرور وزیراعظم شیخ حسینہ کی جماعت پر انسداد دہشت گردی قانون کے تحت پابندی لگائی گئی، عوامی لیگ کی سرگرمیاں مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک معطل رہیں گی۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل ایکٹ میں ترمیم کی بھی منظوری دے دی ہے، ترمیم سے سیاسی جماعتوں اور متعلقہ اداروں پر مقدمہ چلانے کی اجازت دی گئی ہے۔
دوسری طرف عوامی لیگ نے عبوری حکومت کے اس اقدام کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد گزشتہ برس اگست میں شدید عوامی دباؤ کے بعد استعفیٰ دے کر بھارت فرار ہو گئی تھیں، بنگلہ دیش کی عبوری حکومت بھارت سے متعدد بار شیخ حسینہ واجد کی حوالگی کا مطالبہ کر چکی ہے۔
بنگلہ دیش میں 1971 کی جنگ لڑنے والوں کے بچوں کو سرکاری نوکریوں میں 30 فیصد کوٹہ دیئے جانے کے خلاف طلبہ سڑکوں پر آ گئے تھے، سپریم کورٹ نے کوٹہ سسٹم کو ختم کردیا تھا مگر طلبہ نے اپنے 200 مقتول ساتھیوں کو انصاف ملنے تک سول نافرمانی کی کال دے دی تھی۔
کوٹہ سسٹم مخالف طلبہ کی جانب سے سول نافرمانی کی تحریک کے اعلان کے بعد پرتشدد احتجاج میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 300 تک پہنچ گئی تھی جس پر شیخ حسینہ کو ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمسئلہ کشمیر کا حل اور دونوں عظیم ممالک کے درمیان تجارت چاہتا ہوں، ٹرمپ کا پاکستان اور بھارت کو پیغام سخت گیر جنرل عاصم منیر دو قومی نظریے پر پورا یقین رکھتے ہیں: برطانوی اخبار جنگ بندی کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا، بھارتی عہدیدار ہم نے پیغام دیا کہ نئی دہلی میں کچھ ڈیلیور بھی کرسکتے ہیں، وزیر دفاع پاک بھارت جنگ بندی معاہدے میں مارکو روبیو اور جےڈی وینس نے واضح فرق ڈالا: امریکا امید ہے پاک بھارت جنگ بندی دیرپا ہوگی: پاکستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر فیصل بھارت ناکام ہو گیا، پاکستانی افواج فاتح بن کر ابھریں، برطانوی صحافیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سیاسی جماعت بنگلہ دیش عوامی لیگ
پڑھیں:
امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
نیویارک(نیوز ڈیسک)امریکہ نے “جبری مشقت سے متعلق خدشات کے پیش نظر” پاکستان، بھارت، چین اور یورپی یونین سمیت 60 تجارتی شراکت دار ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر کے مطابق ان برآمدی محصولات (ٹیرف) کی شرح 10 فیصد سے لے کر 12.5 فیصد تک ہوگی اور یہ جمعہ یعنی آج سے نافذ العمل ہوں گے۔
Today, Ambassador Greer is taking action, at President Trump’s direction, under Section 301 of the Trade Act of 1974 by imposing tariffs on 60 trading partners for their failure to adopt and effectively enforce a prohibition on the importation of goods produced with forced labor.…
— United States Trade Representative (@USTradeRep) July 23, 2026
انہوں نے کہا کہ امریکہ میں جبری مشقت کے خلاف قوانین طویل عرصے سے نافذ ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دیگر ممالک بھی اسی طرز کے اقدامات کریں۔
یہ نئے محصولات اس عالمی ڈیوٹی کی جگہ لیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال کے آغاز میں عائد کی گئی تھی اور جس کی مدت اب ختم ہو رہی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے فروری میں بعض ٹیرف مسترد کیے جانے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے متبادل قانونی راستوں کے ذریعے نئے اقدامات متعارف کروائے ہیں۔
امریکہ کے تجارتی نمائندوں کے دفتر کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا اور ملائیشیا سمیت کئی ممالک پر 10 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ڈیوٹی لاگو ہوگی۔
یورپی یونین، جاپان اور جنوبی کوریا جیسے ممالک کے لیے ٹیرف کی مجموعی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان رکھی گئی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ ممالک نے ان اقدامات پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا نے ان ٹیرف کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ آزاد تجارتی معاہدوں کے منافی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبہ جاتی ٹیرف پہلے سے نافذ ہیں اور ان پر نئے اقدامات کا اطلاق نہیں ہوگا، جبکہ توانائی اور کھاد سمیت بعض اشیا کو استثنا دیا گیا ہے۔
اسلام آباد نے بھی جبری مشقت سے متعلق تحقیقات پر امریکی حکام کو تفصیلی جوابات جمع کرائے ہیں، بلکہ حالیہ تجارتی مذاکرات سے ایک روز قبل بھی مزید وضاحتیں فراہم کی تھیں۔
مزید پڑھیں۔ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے