امن کا راستہ منتخب کرنے پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، امریکی وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
واشنگٹن(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔12 مئی 2025)امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے امن کا راستہ منتخب کرنے پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی دانشمندی کو سراہتے ہیں، امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست بات چیت کا حامی ہے،دونوں ممالک کے روابط بہتر بنانے کی مسلسل کوششوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں،امریکی وزیر خارجہ نے برطانوی ہم منصب ڈیوڈ لیمی سے ٹیلی فون پر بات چیت میں بھارت اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا۔
دونوں رہنماوں نے جنوب ایشیائی پڑوسیوں پر جنگ بندی اور رابطہ قائم رکھنے پر زور دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر خارجہ مکمل جنگ بندی برقرار رکھنے پر زور دیتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست مذاکرات کے حامی ہیں۔(جاری ہے)
امریکی وزیر خارجہ نے برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی اور جرمن چانسلر فریڈرک مرز سے ٹیلی فون پر الگ الگ بات چیت کی اور یوکرین جنگ پر امریکا کے موقف کی توثیق کی۔
وزیر خارجہ کامزید یہ بھی کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان اور بھارت پر براہ راست بات چیت کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اور امریکہ تعمیری بات چیت کو فروغ دینے کیلئے تعاون جاری رکھے گا۔یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکوروبیو نے کہا تھا کہ امریکہ جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے تھے۔امریکی وزیر خارجہ نے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے رابطہ کیا تھا۔امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت دونوں کو کشیدگی کم کرنے کیلئے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیاتھا۔امریکی وزیر خارجہ کاکہنا تھاکہ امریکہ خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کیلئے مکمل طور پر پرعزم تھا۔ترجمان امریکی وزارت خارجہ کے مطابق مارکو روبیو نے حالیہ تنازع میں شہری کے جاں بحق ہونے پر افسوس کا اظہار کیاتھا۔وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا کی موجودہ سکیورٹی صورتحال پر امریکی صدر ٹرمپ کی تشویش کو سراہاتھا۔وزیراعظم نے پاکستان کی خودمختاری اورعلاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرنے کے عزم کا اعادہ کیاتھا۔بعدازاں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بڑھتی ہوئی پاک بھارت کشیدگی میں پاکستانی ہم منصب و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار سے ٹیلیفونک رابطہ کیا تھا۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت نے پاکستان کے پاس کوئی چوائس نہیں چھوڑی تھی۔ بھارتی حملوں میں ہمارے 35 افراد شہید ہوئے جبکہ بھارت کے 80 ڈرونز گرائے تھے۔انہوں نے کہا تھاکہ نور خان، شور کوٹ، سکھر ایئرپورٹ پر حملے ہوئے تھے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی اپنے دفاع میں کی تھی۔ بھارت جارحیت سے باز نہیں آرہاتھا۔اسحاق ڈار کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ بارڈر کی خلاف ورزی کریں گے تو ہم دفاع کا حق رکھتے تھے۔ بھارت نے پاکستان پر الزامات لگائے اب تک کوئی الزام ثابت نہیں ہو سکا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان اور بھارت نے پاکستان کہنا تھا بات چیت تھا کہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔