بھارت: کراچی بیکری پر بی جے پی کے شدت پسندوں کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT
بھارتی شدت پسند اب پاکستان کے شہروں کے نام سے بھی خوفزدہ ہونے لگے، بھارتی شہر حیدرآباد میں کراچی بیکری پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا پسندوں نے حملہ کردیا۔
ہندوتوا کے پیروکاروں نے پاک بھارت جنگ اور کشیدگی کے تناظر میں بیکری کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا۔
نفرت کی آگ میں جلتے چند شدت پسندوں نے بیکری کے باہر جمع ہو کر کراچی کے نام والے بورڈ کو ڈنڈوں سے توڑ ڈالا۔
پہلگام حملے کے بعد کراچی بیکری کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔
اس سے پہلے آندھرا پردیش میں کراچی بیکری کی ایک شاخ کے باہر بھی احتجاج کیا گیا تھا۔
بیکری مالکان کا کہنا ہے کہ اُن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، یہ نام تقسیمِ ہند کے وقت اُن کے خاندان کی ہجرت سے جڑی تاریخی پہچان کی علامت ہے۔
واضح رہے کہ کراچی بیکری کا قیام 1953ء میں ہوا تھا، یہ ایک سندھی ہندو مہاجر خانچند رمنانی کی ملکیت تھی، جو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان منتقل ہوئے تھے۔
یہ بیکری کئی دہائیوں سے مشہور ہے اور اب اسے خانچند کے پوتے راجیش اور ہریش رمنانی سنبھال رہے ہیں۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کراچی بیکری
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :