Daily Mumtaz:
2026-07-24@07:33:09 GMT

بھارت: کراچی بیکری پر بی جے پی کے شدت پسندوں کا حملہ

اشاعت کی تاریخ: 12th, May 2025 GMT

بھارت: کراچی بیکری پر بی جے پی کے شدت پسندوں کا حملہ

بھارتی شدت پسند اب پاکستان کے شہروں کے نام سے بھی خوفزدہ ہونے لگے، بھارتی شہر حیدرآباد میں کراچی بیکری پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے انتہا پسندوں نے حملہ کردیا۔

ہندوتوا کے پیروکاروں نے پاک بھارت جنگ اور کشیدگی کے تناظر میں بیکری کا نام تبدیل کرنے کا مطالبہ کردیا۔

نفرت کی آگ میں جلتے چند شدت پسندوں نے بیکری کے باہر جمع ہو کر کراچی کے نام والے بورڈ کو ڈنڈوں سے توڑ ڈالا۔

پہلگام حملے کے بعد کراچی بیکری کو نشانہ بنانے کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔

اس سے پہلے آندھرا پردیش میں کراچی بیکری کی ایک شاخ کے باہر بھی احتجاج کیا گیا تھا۔

بیکری مالکان کا کہنا ہے کہ اُن کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں، یہ نام تقسیمِ ہند کے وقت اُن کے خاندان کی ہجرت سے جڑی تاریخی پہچان کی علامت ہے۔

واضح رہے کہ کراچی بیکری کا قیام 1953ء میں ہوا تھا، یہ ایک سندھی ہندو مہاجر خانچند رمنانی کی ملکیت تھی، جو قیام پاکستان کے بعد ہندوستان منتقل ہوئے تھے۔

یہ بیکری کئی دہائیوں سے مشہور ہے اور اب اسے خانچند کے پوتے راجیش اور ہریش رمنانی سنبھال رہے ہیں۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کراچی بیکری

پڑھیں:

مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق

بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔

واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔

متعلقہ مضامین

  • ایشین گیمز: پاکستان، بھارت، بنگلادیش، سری لنکا براہِ راست ناک آؤٹ مرحلے میں
  • کوہاٹ ٹول پلازہ کے قریب دہشت گردوں کا کسٹمز حکام پر حملہ، 2 اہلکار شہید، ایک زخمی
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا