خیبر پختونخوا پولیس سمیت تمام سکیورٹی ادارے بھارت کی اے اور بی ٹیموں کے خلاف متحد ہیں: بیرسٹرسیف
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
خیبر پختونخوا حکومت کے مشیر اطلاعات بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا ہے کہ پاک فوج نے مشرقی سرحد پر بھارت کو منہ توڑ جواب دے کر اس کا غرور خاک میں ملا دیا ہے، اب مغربی سرحد پر بھارت کی بی ٹیم دہشت گردوں کو بھی شکست دیں گے۔اپنے بیان میں مشیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس سمیت تمام سکیورٹی ادارے بھارت کی اے اور بی ٹیموں کے خلاف متحد ہیں، بھارت خیبر پختونخوا میں دہشت گردوں کی پشت پناہی میں ملوث ہے۔بیرسٹر سیف نے کہا کہ امن دشمن عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف پولیس اہلکاروں کی قربانیاں ہرگز رائیگاں نہیں جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردوں کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہے، بھارت کی بی ٹیم کو سر اٹھانے نہیں دیا جائے گا۔مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے گزشتہ روز پشاور میں پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا، خیبر پختونخوا حکومت دھماکے میں شہید اہلکاروں کے لواحقین کے غم میں برابر کی شریک ہے، واقعے میں ملوث عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا بھارت کی نے کہا
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔