ن لیگ کے سابق ایم پی اے میاں اعجاز بھٹی پی ٹی آئی میں شامل ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
لاہور (نیوز ڈیسک)مسلم لیگ ن کے سابق ایم پی اے میاں اعجاز حسین بھٹی اور شاہ کوٹ سے سابق وائس چیئرمین مہر عبدالغفار نے سینکڑوں ساتھیوں سمیت باضابطہ طور پر پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کرلی۔
تفصیل کے مطابق ننکانہ صاحب کی سیاست کے میدان میں ہلچل اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوگیا۔ سابق ممبر صوبائی اسمبلی ن لیگ حلقہ پی پی 132 میاں اعجاز حسین بھٹی نے بلا آخر سابق وائس چیرمین مہر عبدالغفار و دیگر سینکڑوں ساتھیوں سمیت بیرسٹر گوہر علی اور اسد قیصر سے ملاقات کے دوران پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی این اے 111 چوہدری محمد ارشد ساہی بھی موجود تھے۔
قائم مقام چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے اور دیگر رہنمائوں نے سابق ممبر صوبائی اسمبلی ن لیگ کے گلے میں پی ٹی آئی کا مفلر ڈالا۔ میاں اعجاز حسین بھٹی نے کہا کہ اپنے حلقہ کی عوام کے پر زور مطالبے پر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کو ہمیشہ عبادت سمجھ کر کیا، منافقت کی سیاست کو بے نقاب کروں گا، میری پی ٹی آئی میں شمولیت سے مخالفین کی نیندیں اڑ چکی ہیں، ان شا اللہ عوام کے ووٹ کی طاقت سے منتخب ہو کر عوامی خدمت کا مشن جاری رکھیں گے۔
قائم مقام چیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے میاں اعجاز حسین بھٹی اور مہر عبدالغفار کو پی ٹی آئی میں شمولیت پر مبارکباد دی اور کہا کہ فارم 47 کی پیداوار حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں، 24 کروڑ عوام کے دلوں کی دھڑکن بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان ہیں، حکومت جتنے بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرلے ہم گھبرانے والے نہیں ہیں، پاکستان کے روشن مستقبل کے ضامن عمران خان ہیں۔
معرکہ حق میں اسکواڈرن لیڈر عثمان سمیت 11 جوان اور 40 شہری شہید ہوئے، آئی ایس پی آر
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: میاں اعجاز حسین بھٹی پی ٹی ا ئی میں میں شمولیت
پڑھیں:
وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔