بیجنگ : چائنا میڈیا گروپ کے تحت سی جی ٹی این کی جانب سے دنیا بھر کے انٹرنیٹ صارفین  پر مشتمل  ایک تازہ سروے کے مطابق 91.8فیصد افراد  نے امریکہ کے ‘فینٹی نیل ٹیکس کو محصولاتی غنڈہ گردی کی  ایک قسم  قرار دیا ہے، جس کا مقصد انسداد منشیات کے شعبے میں امریکا کی  اپنی  ناکامی کو چھپانا ہے۔سروے کے مطابق  94.

8فیصد  رائے دہندگان کا ماننا ہے کہ منشیات  کا پھیلاؤ امریکہ  میں سماجی بیماری بن چکا ہے، جبکہ 91فیصد   کی رائے ہے کہ منشیات کا بےجا استعمال  امریکی عوام کی زندگیوں کے لیے سب سے بڑے خطرات میں سے ایک بن چکا ہے۔ مفاداتی گروہوں   کے اثرات سے  امریکی حکومت اقتصادی مفادات کے تحت منشیات کی قانونی حیثیت کو بڑھاوا دے رہی ہے  جو  منشیات کے مسئلے کو مزید بڑھاتا ہے۔ اسی حوالے سے، 92.8فیصد رائے دہندگان نے کہا کہ یہ صورتحال حکومت کی جانب سے منشیات کے استعمال  کی نگرانی میں بڑی ناکامی کو ظاہر کرتی ہے۔ سروے میں، 90.8فیصد  رائے دہندگان نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کی طرف سے اپنی ذاتی ذمہ داریوں کو چھپانا اور انہیں دوسروں پر ڈالنا صرف انسداد منشیات کے بین الاقوامی تعاون کو نقصان پہنچائے گا۔ یہ  سروے سی جی ٹی این کے انگریزی ، ہسپانوی، فرانسیسی، عربی اور روسی زبانوں کے پلیٹ فارمز پر  جاری کیا گیا اور 24 گھنٹوں  میں  12,000 سے زیادہ انٹرنیٹ صارفین نےاس میں حصہ لیا اور  اپنی رائے کا اظہار کیا۔

Post Views: 1

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: منشیات کے

پڑھیں:

شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی

چولپون آتا (کرغزستان): ایران نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں یکطرفہ پالیسیوں، بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی اور طاقت کے غیر قانونی استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کثیرالجہتی تعاون کو موجودہ عالمی حالات میں ناگزیر قرار دیا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کرغزستان کے سیاحتی شہر چولپون آتا میں جاری اجلاس کے موقع پر سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ ایران شنگھائی تعاون تنظیم اور اس جیسے دیگر کثیرالجہتی فورمز کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں بڑھتی ہوئی یکطرفہ پالیسیاں، ریاستوں کے درمیان طے پانے والے معاہدوں کی خلاف ورزیاں اور طاقت کا غیر قانونی استعمال بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر رہے ہیں۔

اگرچہ اسماعیل بقائی نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، تاہم انہوں نے ماضی میں بھی اسی نوعیت کے بیانات میں امریکا کی خارجہ پالیسی اور اس کے اقدامات پر تنقید کی ہے۔

ایران 2023 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا باقاعدہ رکن بنا تھا۔ یہ تنظیم چین اور روس کی قیادت میں قائم ایک اہم یوریشیائی سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی فورم ہے، جس میں پاکستان، بھارت، ایران اور دیگر رکن ممالک شامل ہیں۔

وزرائے خارجہ کا یہ اجلاس تنظیم کے آئندہ سربراہی اجلاس کی تیاریوں کا حصہ ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سربراہ اجلاس میں علاقائی سلامتی، تجارتی روابط، اقتصادی تعاون اور رکن ممالک کے درمیان شراکت داری کے فروغ جیسے اہم موضوعات پر غور کیا جائے گا۔

We are in Cholpon-Ata, Kyrgyzstan, to participate in the meeting of the Council of Foreign Ministers of the Shanghai Cooperation Organization (SCO) Member States.

Iran attaches great importance to the SCO and similar multilateral arrangement, which represent a vital force for… pic.twitter.com/CCGd7mxcL8

— Esmaeil Baqaei (@IRIMFA_SPOX) July 24, 2026

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ عالمی کشیدگی کے تناظر میں شنگھائی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر ہونے والی یہ ملاقاتیں خطے میں سفارتی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکا نے پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • شنگھائی تعاون تنظیم میں ایران کا دوٹوک مؤقف، یکطرفہ طاقت کے استعمال پر سخت تنقید کردی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ