بھارت کو تاریخی شکست، پاکستان عالمی سطح پر سرخرو ہوا: پیپلز پارٹی
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماو¿ں نے کہا ہے کہ بھارت کو تاریخی شکست دی، پاکستان عالمی سطح پر سرخرو ہوا، کشمیر ہمارا کور ایشو ہے اور ہمیشہ رہے گا، بھارت سے بات چیت میں سندھ طاس معاہدہ بھی شامل ہے۔
نجی ٹی وی دنیا نیوز کے مطابق پی پی رہنما نیئر بخاری اور ندیم افضل چن کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ہندوستان نے تین دن جارحیت کی، جواب میں ہم نے طیارے گرائے، ڈرون گرائے، صدر ٹرمپ نے جنگ بندی میں مدد کی، دوست ممالک نے بھی آواز اٹھائی، ہم بات چیت پر یقین رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کا بیانیہ پاکستان کا بیانیہ ہے، بھارت کا آبی جارحیت کرنا کوئی قانون نہیں، بھارت نے نہتے اورمظلوم پاکستانی شہریوں پر رات میں حملہ کیا، پاک فضائیہ نے مشکل حالات میں اپنی صلاحیت منوائی، بھارت کو تاریخی شکست دی۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارتی میڈیا نے فلم کا منظرکھینچا جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا، پاکستانی میڈیا نے ذمہ داری کا مظاہرہ کیا، بھارتی اور پاکستانی میڈیا میں زمین آسمان کا فرق ہے، ہمیشہ معصوم شہری جنگ کی قیمت ادا کرتے ہیں، اس وقت مودی سرکاربوکھلائی ہوئی ہے۔
شیری رحمان نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف نے بھی مشکل وقت میں پاکستان کو سرخرو کیا، بلاول بھٹو نے بیانیے کی جنگ کا محاذ سنبھالا اوراہم ذمہ داری نبھائی، دنیا میں اس وقت بیانیے کی جنگ چل رہی ہے، عالمی سطح پر بھی پاکستان کی جیت ہوئی، پوری قوم کو مبارکباد پیش کرتی ہوں، پاکستان پیپلزپارٹی یوم تشکر منانے میں قوم کے ساتھ ہے۔
انہوں نے استفسار کیا کہ کیا سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ میں کچھ نکلا؟ کیا ہم بھی جعفرایکسپریس واقعہ کو جواز بناتے ہوئے جنگ کرتے؟ بھارت پہلگام واقعہ کی آزاد تحقیقات سے بھی بھاگ رہا ہے، جب کوئی آزادانہ تحقیقات سے بھاگے تواس کے دل میں چورہوتا ہے، بھارت حقائق پر پردہ ڈال رہا ہے، ان تمام معاملات میں بھارت دہشت گرد ہے۔
شیری رحمان نے واضح کیا کہ ہم جنگ بالکل نہیں چاہتے، پاکستان نے کبھی جنگ کیلئے ہتھیار نہیں اٹھائے، یہ جنگ ہم پر مسلط کی گئی جس کو ہم نے گھنٹوں میں جیت لیا، ہم نے بھارت کو سرخ لکیر کراس نہیں کرنے دی۔
اس موقع پر نیئر بخاری نے کہا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ معطل نہیں کر سکتا، ہمیں اپنے ملکی معاملات پر بھی توجہ دینی چاہئے، موجودہ حکومت نے مو¿ثر کردار ادا کیا، چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بھی عالمی سطح پر بہترین کردارادا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے1965ء میں بھی پاکستان پر رات کے اندھیرے میں حملہ کیا، بھارت کے1965ءمیں بھی سارے خواب اورسوچ چکنا چور ہوئے تھے، اب بھی افواج پاکستان نے بھرپورطریقے سے دفاع کیا۔
نیئر بخاری نے میزائل ٹیکنالوجی کا کریڈٹ بینظیر بھٹو کو دیتے ہوئے کہا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں، کشمیر کے مسئلے کو ہندوستان ہمیشہ اگنور کرتا رہا، ایسے موقع پر تمام سیاسی جماعتوں کا ایک مو¿قف ہونا ضروری ہے، وزیراعظم نے تمام جماعتوں کے رہنماو¿ں سے رابطہ کیا۔
دوران پریس کانفرنس پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما ندیم افضل چن نے کہا کہ کل مودی کی شکست خوردہ تقریر سب نے دیکھ لی، ہمارے ملک میں عوام اورسیاسی جماعتوں میں تقسیم کی جارہی تھی، ہندوستان کے خلاف جنگ میں ساراملک افواج کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کا سہولت کار نہیں ہے، ہماری افواج نے سرفخر سے بلند کیا، سیاسی قوتوں کو بھی چاہئے پاکستان کا سرفخر سے بلند کریں اور مل بیٹھیں۔
پاک بھارت کشیدگی میں پاکستان کا ساتھ کیوں دیا؟ بھارتی تاجروں کا ترکیہ کے سیبوں کا بائیکاٹ
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عالمی سطح پر نے کہا کہ کہ بھارت بھارت کو
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔