وزیر اطلاعات گلگت بلتستان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صوبائی حکومت کیطرف سے ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے مختلف بین القوامی ایونٹس بھی منعقد کئے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ ونٹر ٹورازم کے نام پر بھی ایوینٹس منعقد ہوئے ہیں جس سے ایڈونچر کے شوقین افراد کو راغب کرنے بلکہ مقامی لوگوں کے لئے سیاحت کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ معاون خصوصی وزیر اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان خوبصورت قدرتی خطہ ہے جو کہ اپنی دلکش مناظر اور منفرد سیاحتی مقامات کی بنا پر دنیا میں سیاحت کے لئے موزوں مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں پر ایڈوانچر ٹورازم کے حوالے سے بہت کچھ ہے۔ اس خطے میں کے ٹو، نانگا پربت اور راکاپوشی کے علاوہ دنیا کی بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں جو دنیا بھر کے کوہ پیماں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ ایک انٹرویو میں ایمان شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کیطرف سے ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے مختلف بین القوامی ایونٹس بھی منعقد کئے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ ونٹر ٹورازم کے نام پر بھی ایوینٹس منعقد ہوئے ہیں جس سے ایڈونچر کے شوقین افراد کو راغب کرنے بلکہ مقامی لوگوں کے لئے سیاحت کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے تاریخی مقامات کی حفاظت اور تعمیر، ثقافتی تقریبات کا انعقاد اور خطے کی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحوں کے آسانی کے لیے فی الفور این او سی کے اجرا کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور باقاعدہ طور پر سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے آگاہی کے پروگرامات بھی منعقد کروائے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے حوالے سے کئے گئے ہیں کے لئے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • صرف مسلم لیگ (ن) ہی گلگت بلتستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے، ثروت صباء
  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • صدرمسلم لیگ (ن) نواز شریف کل گلگت بلتستان کا ایک روزہ دورہ کریں گے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت