سیاحوں کو فوری این او سی کے اجراء کے حوالے سے اقدامات اٹھائے گئے ہیں، ایمان شاہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
وزیر اطلاعات گلگت بلتستان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ صوبائی حکومت کیطرف سے ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے مختلف بین القوامی ایونٹس بھی منعقد کئے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ ونٹر ٹورازم کے نام پر بھی ایوینٹس منعقد ہوئے ہیں جس سے ایڈونچر کے شوقین افراد کو راغب کرنے بلکہ مقامی لوگوں کے لئے سیاحت کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ معاون خصوصی وزیر اطلاعات گلگت بلتستان ایمان شاہ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان خوبصورت قدرتی خطہ ہے جو کہ اپنی دلکش مناظر اور منفرد سیاحتی مقامات کی بنا پر دنیا میں سیاحت کے لئے موزوں مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں پر ایڈوانچر ٹورازم کے حوالے سے بہت کچھ ہے۔ اس خطے میں کے ٹو، نانگا پربت اور راکاپوشی کے علاوہ دنیا کی بلند ترین چوٹیاں موجود ہیں جو دنیا بھر کے کوہ پیماں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ ایک انٹرویو میں ایمان شاہ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کیطرف سے ٹورازم کو فروغ دینے کے لئے مختلف بین القوامی ایونٹس بھی منعقد کئے گئے ہیں اور ساتھ ساتھ ونٹر ٹورازم کے نام پر بھی ایوینٹس منعقد ہوئے ہیں جس سے ایڈونچر کے شوقین افراد کو راغب کرنے بلکہ مقامی لوگوں کے لئے سیاحت کے ذریعے روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس حوالے سے صوبائی حکومت گلگت بلتستان کے تاریخی مقامات کی حفاظت اور تعمیر، ثقافتی تقریبات کا انعقاد اور خطے کی ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لئے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحوں کے آسانی کے لیے فی الفور این او سی کے اجرا کے حوالے سے بھی اہم اقدامات اٹھائے گئے ہیں اور باقاعدہ طور پر سیاحت کو فروغ دینے کے حوالے سے آگاہی کے پروگرامات بھی منعقد کروائے گئے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کے حوالے سے کئے گئے ہیں کے لئے
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔