اسلام آبادـ: بھارت نے ہارمان لی،نریندرمودی نے ہارے ہوئے وزیراعظم کی تقریرکی،بھارتی فضائیہ کا مورال ڈاؤن ہوچکاہے، دوبارہ حملہ کرنے کی سکت نہیں رہی۔نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات نے کہاکہ مسئلہ کشمیرپر دنیابھرمیں بات ہورہی ہے ،یہ ہماری کامیابی ہے، ٹرمپ کا مسئلہ کشمیرکے حل کاکہنابھارت کو ہضم نہیں ہورہا۔انہوں نے کہاکہ جنگی حالات میں کچھ یوٹیوب چینلز منفی کرداراداکیا، پروپیگنڈاکرنے والے کچھ یوٹیوب چینلزکی نشاندہی ہوچکی ہے،ایسے یوٹیوب چینلزکی بندش کی درخواستیں پی ٹی اے نے کی ہیں، کچھ کالی بھیڑوں کے سوا سوشل میڈیااورمیڈیانے اچھاکردار اداکیا۔انہوں نے کہاکہ وزارت اطلاعات نے دن رات محنت کرکے بیانیے کی جنگ میں برتری حاصل کی۔انہوں نے کہاکہ جنگ ختم کرنے کی پہلی کال بھارت نے دی،گزشتہ روز ڈی جی ایم اوزکارابطہ ہوا، فی الحال سیزفائرپرعملدرآمدہورہاہے ۔عطاء اللہ تارڑ نے کہاکہ دریاوں میں ابھی پانی کابہاومعمول کے مطابق ہے،سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کا کیس مضبوط ہے،قومی سلامتی کمیٹی واضح کرچکی ہے کہ اگرپانی روکاتو ردعمل ہوگابھارت سندھ طاس معاہد ے کو یکطرفہ طورپرمعطل نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہاکہ ہم جو بھی اقدامات کرتے ہیں ان میں نوازشریف کی مشاورت شامل ہوتی ہے۔

 

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی