پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت اور پاکستان دونوں میں مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کیا گیا بھارت میں 8 ہزار سے زائد ایکس اکاؤنٹ بلاک کیے گئے جبکہ پاکستان میں بھی متعدد یوٹیوبرز کے اکاؤنٹ منفی پروپیگنڈا کرنے پر بلاک کیے گئے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے نے 7 مئی کو 16 بھارتی یوٹیوب چینل، 31 یوٹیوب ویڈیو لنک اور 32 ویب سائٹس کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے پر بلاک کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پر متعدد یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس بلاک کردیں

ذرائع کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے دوران اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے عناصر کے خلاف پاکستان کے ریاستی اداروں نے گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے پی ٹی اے اور ایف ائی اے سمیت دیگر ادارے سوشل میڈیا کی جامع مانیٹرنگ کر رہے ہیں، پاکستان میں آن لائن مواد کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے قائم ایک سیفٹی اتھارٹی بھی سوشل میڈیا کی جعلی خبروں اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔

ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں بیرون ملک سے چلنے والے متعدد یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا اغاز کر دیا گیا ہے اور حکومت نے کئی یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کے لیے یوٹیوب انتظامیہ کو فہرست بھجوا دی ہے، احمد نورانی اور وقار ملک کی جانب سے یہ پوسٹ سامنے آئی ہے کہ حکومت کی درخواست پر ان کے یوٹیوب چینلز پاکستان میں بلاک کر دیے گئے ہیں اور مبینہ طور پر ان چینلز نے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈا کیا ہے، پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ ریاست افواج اور دیگر اداروں کی توہین یا کردار پر مبنی مواد شیئر کرنے سخت کارروائی ہو گی۔

ذرائع کے مطابق 4 پاکستانیوں کے ایکس اکاؤنٹ بلاک کیے گئے ہیں جن میں @RShahzaddk، @Aadiiroy2، @Ahmad_Noorani، @RealWaqarMaliks کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت حواس باختہ، وفاقی وزیر عطاتارڑ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا

احمد نورانی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی کہ ’پاکستان نے میرے ولاگ پر ملک بھر میں پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر، پاکستان میں ناظرین کے لیے میرے چینل تک رسائی روک دی گئی ہے۔’فیکٹ فوکس’ جس نے فوجی جرنیلوں کی کرپشن اور بدعنوانیوں پر تفصیل سے رپورٹنگ کی، کو فروری دوہزار چوبیس کے انتخابات سے چند روز قبل پاکستان میں بلاک کر دیا گیا تھا۔ ابھی تک بلاک ہے۔‘

وقار ملک نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی کہ ’ابھی ای میل کھولا تو حافظ صاحب کا محبت نامہ ملا میرا یوٹیوب چینل بھارت کے بعد پاکستان میں بھی بند کردیا گیا ہے لیکن حافظ صاحب آپکو این آر او نہیں ملے گا۔‘

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news احمد نورانی بھارت پاک فوج پاکستان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کشیدگی منی پروپیگنڈا وقار ملک یوٹیوبرز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بھارت پاک فوج پاکستان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کشیدگی منی پروپیگنڈا وقار ملک یوٹیوبرز یوٹیوب چینلز پاکستان میں ایکس اکاؤنٹ یوٹیوب چینل سوشل میڈیا پی ٹی اے بلاک کر کے خلاف کے لیے

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
  • میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران دم توڑ گئیں
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • کراچی، رینجرز اور ایس آئی یولیس کے ساتھ مقابلے میں 3 بھتہ خور ہلاک، ایک زخمی گرفتار
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان