پاک بھارت جنگ کے دوران منفی پروپیگنڈا کرنے والے یوٹیوبرز کے اکاؤنٹ بلاک کرنے کا فیصلہ؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, May 2025 GMT
پاک بھارت حالیہ کشیدگی کے دوران بھارت اور پاکستان دونوں میں مختلف سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بلاک کیا گیا بھارت میں 8 ہزار سے زائد ایکس اکاؤنٹ بلاک کیے گئے جبکہ پاکستان میں بھی متعدد یوٹیوبرز کے اکاؤنٹ منفی پروپیگنڈا کرنے پر بلاک کیے گئے۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی پی ٹی اے نے 7 مئی کو 16 بھارتی یوٹیوب چینل، 31 یوٹیوب ویڈیو لنک اور 32 ویب سائٹس کو پاکستان مخالف پروپیگنڈا کرنے پر بلاک کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی اے نے پاکستان مخالف پروپیگنڈا پر متعدد یوٹیوب چینلز اور ویب سائٹس بلاک کردیں
ذرائع کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے دوران اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے عناصر کے خلاف پاکستان کے ریاستی اداروں نے گھیرا تنگ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس حوالے سے پی ٹی اے اور ایف ائی اے سمیت دیگر ادارے سوشل میڈیا کی جامع مانیٹرنگ کر رہے ہیں، پاکستان میں آن لائن مواد کی نگرانی اور کنٹرول کے لیے قائم ایک سیفٹی اتھارٹی بھی سوشل میڈیا کی جعلی خبروں اور اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔
ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں بیرون ملک سے چلنے والے متعدد یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کا اغاز کر دیا گیا ہے اور حکومت نے کئی یوٹیوب چینلز کو بلاک کرنے کے لیے یوٹیوب انتظامیہ کو فہرست بھجوا دی ہے، احمد نورانی اور وقار ملک کی جانب سے یہ پوسٹ سامنے آئی ہے کہ حکومت کی درخواست پر ان کے یوٹیوب چینلز پاکستان میں بلاک کر دیے گئے ہیں اور مبینہ طور پر ان چینلز نے ریاست اور ریاستی اداروں کے خلاف منفی پراپیگنڈا کیا ہے، پی ٹی اے نے خبردار کیا ہے کہ ریاست افواج اور دیگر اداروں کی توہین یا کردار پر مبنی مواد شیئر کرنے سخت کارروائی ہو گی۔
ذرائع کے مطابق 4 پاکستانیوں کے ایکس اکاؤنٹ بلاک کیے گئے ہیں جن میں @RShahzaddk، @Aadiiroy2، @Ahmad_Noorani، @RealWaqarMaliks کے اکاؤنٹس شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مودی حکومت حواس باختہ، وفاقی وزیر عطاتارڑ کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ بھی بلاک کردیا
احمد نورانی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی کہ ’پاکستان نے میرے ولاگ پر ملک بھر میں پابندی عائد کر دی ہے۔ حکومتِ پاکستان کی درخواست پر، پاکستان میں ناظرین کے لیے میرے چینل تک رسائی روک دی گئی ہے۔’فیکٹ فوکس’ جس نے فوجی جرنیلوں کی کرپشن اور بدعنوانیوں پر تفصیل سے رپورٹنگ کی، کو فروری دوہزار چوبیس کے انتخابات سے چند روز قبل پاکستان میں بلاک کر دیا گیا تھا۔ ابھی تک بلاک ہے۔‘
وقار ملک نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر پوسٹ کی کہ ’ابھی ای میل کھولا تو حافظ صاحب کا محبت نامہ ملا میرا یوٹیوب چینل بھارت کے بعد پاکستان میں بھی بند کردیا گیا ہے لیکن حافظ صاحب آپکو این آر او نہیں ملے گا۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news احمد نورانی بھارت پاک فوج پاکستان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کشیدگی منی پروپیگنڈا وقار ملک یوٹیوبرز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارت پاک فوج پاکستان سوشل میڈیا اکاؤنٹس کشیدگی منی پروپیگنڈا وقار ملک یوٹیوبرز یوٹیوب چینلز پاکستان میں ایکس اکاؤنٹ یوٹیوب چینل سوشل میڈیا پی ٹی اے بلاک کر کے خلاف کے لیے
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے