Juraat:
2026-07-24@07:17:42 GMT

لڑائی جیت کر جنگ نہ ہاریں!

اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT

لڑائی جیت کر جنگ نہ ہاریں!

ماجرا / محمد طاہر

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کی شاندار فتح اور بھارت کی شرمناک شکست کے بنیادی دھاگے تاریخ کے گچھوں میں لپٹے ہوئے ہیں، تاریخ کا بنیادی فہم درحقیقت وہ اداراک فراہم کرے گا، جس کے ذریعے ہم بھارت کی” دشمنی” کی گہرائی کو ہی نہیں سمجھ سکیں گے بلکہ اس امر کو بھی جان سکیں گے کہ بھارت کے سامنے کسی لڑائی کو جیت لینے سے وہ ہمارے خلاف برپا بڑی جنگ سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا۔ ذرا ٹہر جائیے!حضرت عیسیٰ سے سات سو سال قبل پیدا ہونے والے چینی ملٹری جنرل سُن تزو کی پچاس صفحات پر مشتمل کتاب ”ڈی آرٹ آف وار” کے ابتدائی اوراق الٹتے ہیں۔ سُن تزو کی پہلی تاکید یہ ہے کہ ہزار جنگوں اور ہزار فتوحات میںاہم بات خود کو اور حریف کو پہچاننا ہے۔ سُن تزو کے اپنے الفاظ ہیں کہ
”Know thy self, know thy enemy.

A thousand battles, a thousand victories”
پاکستان میں حالیہ دنوں کا سب سے بڑا خطرہ ”خود کو پہچاننا ” ہی ہے، مگر اپنے حریف ِ ازلی بھارت کو پہچانے بغیر اصل لڑائی تو کیا وہ حالیہ لڑائی بھی سمجھ میں نہ آئے گی جس میں ہم ایک سرشار کر دینے والی فتح سے ہمکنار ہوئے۔ جذباتی جتھوں اور سیاسی تعصبات میں بٹے کج فہم ٹولوں کو نظرانداز کیجیے! مودی کا خطاب اُتنا ہی خطرناک تھا جتنے پہلگام واقعے کے بعد رونما ہونے والے بالترتیب واقعات۔مودی کے یہ الفاظ سادہ تشریح میں قوم کو تسلی دینے والے نہیں تھے۔ جیسا کہ عام طور پر کہا جا رہا ہے کہ وہ اپنی قوم کے سامنے شکست تو تسلیم کرنے سے رہا۔ یہ دشمن کو نہ سمجھنا ہے جو دنیا کے تسلیم شدہ ملٹری جنرل سُن تزو کی تاکید کے برخلاف ہے۔ پاکستان نے جب آپریشن بنیان مرصوص کے مکمل ہونے کا اعلان کیا تو اگلے چند ثانیوں کے بعد مودی اپنی قوم کے سامنے بیٹھا آپریشن سندور کے جاری رہنے کی جُگالی کر رہا تھا۔ دیکھیے مرحوم اقبال عظیم کب یاد آئے:
دشمن بڑھائے ہاتھ تو تم بھی بڑھاؤ ہاتھ
ہاں!یہ نہ ہو کہ ہاتھ سے تلوار گر پڑے
مودی کا خطاب پاکستان کے لیے ایک ”نیو نارمل” کے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ اُس نے کہا کہ نیو نارمل وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں سے اُس نے معاملہ ختم کیا۔ مودی نے براہ راست پاکستانی فوج کو دہشت گردی کے لیے کھاد پانی دینے کی ذمہ دار قرار دیا۔ مودی کی تقریر میں نیو نارمل کے تین نکات یہ ہیں کہ
1۔ دہشت گردی ہو گی تو کارروائی کریں گے۔
2۔ نیوکلیئر بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے۔
3۔ آتنک کی سرپرست سرکار اور آتنک کے واقعات الگ الگ نہیں دیکھیں جائیں گے۔
ان نکات پر غور کرلیں، اس کا مطلب کیا ہے، کوئی پہلگام واقعہ ہوا تو کارروائی کریں گے۔ پاکستان کی طرف سے توازن قوت کے غیر رسمی اظہاریے یعنی ایٹمی ہتھیار کے استعمال کے اشارے درخور اعتناء نہیں ہونگے۔ بھارت میں ہونے والے واقعات کا مقامی تناظر نہیں بنائیں گے اس کی ذمہ داری پاکستان پر لادیں گے اور کارروائی کریں گے۔ نریندر مودی نے اپنے خطاب میں اپنا من پسند پُرانا حربہ اور من پسند پرانا فقرہ دونوں ظاہر کیے۔ مودی نے ایک حکمت عملی کے تحت تجارت اور دہشت گردی کو ایک دوسرے سے منسلک کرکے یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چلے گی۔ یوں پاکستان کی طرف سے تجارتی تعلقات قائم کرنے کی پرانی کوششیں کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں ۔ اب بھی وہ وہیں کھڑا ہے۔ مودی نے ماضی میںیہ فقرہ کہا تھا کہ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔ بھارتی وزیراعظم نے قوم سے اپنے خطاب میںدوبارہ یہی فقرہ دُہرایا۔ یہاں یہ دُہرانے کی ضرورت نہیںکہ پاکستان نے جنگ بندی کے بعد تاحال بھارت سے کچھ حاصل نہیں کیا ۔ ڈی جی ایم او کی سطح پر ایک رابطے کے علاوہ ہمارے پاس اس وقت کچھ بھی نہیں۔ جبکہ بھارت کو پاکستان کے غیر متوقع جواب کے باعث فوری جنگ بندی چاہئے تھی، یہ وہ حاصل کر چکا۔ جنگ بندی سے پہلے ہماری بند مٹھی اور کامیابی دونوں ہی بہت سی پیشگی ضمانتوں کو یقینی بنا سکتی تھیں، ہم یہ موقع ضائع کر چکے ہیں۔ پاکستان کے پاس اس وقت مواقع کی ایک ہموار زمین موجود ہے ، جس کا ادراک نہیں کیا جا رہا ، مودی کے لیے اب مسائل کی ایک دُنیا ہے، مگر مودی کے مسائل ہمیں بھارت کے مستقل مسئلے سے نجات نہیں دلا سکیں گے۔ یہاں تک کہ مودی حکومت بھی کھودے۔ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ آرایس ایس پھر بھی موجود رہے گی۔ اور آر ایس ایس کیسے بروئے کار آتی ہے اس کے لیے مودی کی ہی مثال لے لیجیے۔
نریندری مودی کا سیاسی سفر چونتیس سال کی عمر میں 1984ء کو شروع ہوا تھا جب آر ایس ایس نے اپنے چند اہم ارکان کو بی جے پی میں شامل کرایا، اُن میں مودی بھی شامل تھا۔ مودی نے اُن چند ارکان کے ساتھ بی جے پی کے اندر اہم ترین عہدے حاصل کیے۔ اگرچہ بھارتیہ جنتا پارٹی، آر ایس ایس کے سیاسی بازو جن سنگھ کی ہی موجودہ شکل ہے ۔اور 1980ء میں اٹل بہاری واجپائی، لال کرشن اڈوانی اور بھیرون سنگھ شیخاوت نے اس جماعت کوتشکیل دیا تھا۔ جس کے پہلے صدراٹل بہاری واجپائی رہے ۔ مگر اس کے باوجود اس جماعت میں ابتدائی لوگوں کو جو آر ایس ایس کے اندر متحرک نہ رہے تھے، یا خود بی جے پی کے علاوہ کوئی واضح شناخت نہ رکھتے تھے، اُنہیںنریندر مودی نے آر ایس ایس کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر بتدریج غیر متعلق بنا کر اکھاڑ پھینکا۔ خود نریندر مودی ایل کے ایڈوانی کو پھلانگ کر آگے بڑھے۔ جبکہ نریندر مودی کے اُبھرنے سے پہلے ایل کے ایڈوانی کا چہرہ بھی مودی سے مختلف نہ تھا۔ یہ ایل کے ایڈوانی ہی تھا جس نے بابری مسجد کو نشانے پر لیااور سومناتھ ،ایودھیا یاترا کا ڈول ڈالا۔ مودی نے اس میںبڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس کے علاوہ مرلی منوہر جوشی کی کنیا کماری ، کشمیر یاترا میں بھی حصہ لیا۔نفرت کا یہ سارا کاروبار بی جے پی، آرایس ایس اور خود نریندر مودی کے لیے بہت منافع بخش ثابت ہوا۔
نریندر مودی کو بتدریج بھارت کے اندر قوت کے مرکزی دھاروں میں شرکت کا موقع تب مل جب وہ گجرات کی سیاست کا اہم حصہ بن گئے۔ سب کچھ ایک منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔ مودی نے1995ء میں گجرات کے انتخابات کی مہم سنبھالی۔2001ء میں اس وقت کے وزیر اعلیٰ کیشو بھائی پٹیل کے استعفیٰ کے بعد مودی خود وزیر اعلیٰ بنادیے گئے۔ نریندر مودی یہ سارے مرحلے درپردہ آر ایس ایس کی حمایت سے عبور کرتے رہے۔ یہاں تک کہ گجرات فسادات میں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلتے ہوئے وہ 26 مئی 2014ء کو بھارت کے وزیراعظم بننے میں کامیاب ہو گئے۔ اس دوران بھارت کے اندر اقلیتوں کے خلاف ہر قسم کے مظالم ہوتے رہے۔ آر ایس ایس مختلف تحریکوں سے مختلف اہداف حاصل کر تی رہی۔ مرکزی حکومت کی کھلی حمایت سے مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے جاتے رہے۔ یہاں تک مسلم مزاروں ، جائیدادوں اور پوری کی پوری آبادیوں پر قبضے کرنے کی مہمات تیز ہوئیں۔ یہ سارا کھیل نریندر مودی اور آرایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کی ملی بھگت کا نتیجہ رہا۔ مودی کے آر ایس ایس نظریات اس قدر مستحکم ہیںکہ اُس نے 2008ء میں اپنی واحد
کتاب گجراتی زبان میں لکھی ۔ ‘جیوتی پونج ‘ نامی اس کتاب میںمودی نے ہندو نظریاتی تنظیم راشٹریہ سویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس کے گمنام رہنے والے کے کارکنان کی زندگیوں کو موضوع بنایا ہے۔ اس سے اندازہ لگا لیجیے کہ مودی کے نظریات کتنے مستحکم اور خوف ناک اہداف رکھتے ہیں۔ مودی کی راہ میں حالیہ کچھ برسوں میں رکاوٹیں بھی پیدا ہوئی ہیں، مگر اس کے باوجود وہ ایک دفعہ بھی اپنی راہ سے نہیں ہٹا۔ اس حوالے سے مودی کی حالیہ سیاست کا ایک جائزہ مفید رہے گا۔ جس سے اندازہ ہو سکے گا کہ پاکستان سے شرمناک شکست کے بعد مودی کے خطاب کے الفاظ صرف اپنی شکستہ قوم کی دلجوئی کے لیے نہیں ہیں۔ یہ جائزہ آئندہ پر اُٹھا رکھتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: آر ایس ایس کے پاکستان کے بھارت کے بی جے پی مودی کے مودی کی کے اندر کے لیے کے بعد

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا