Islam Times:
2026-06-03@05:43:05 GMT

کوئی غیر ملکی طاقت ہمیں غلام نہیں بنا سکتی، بھارتی کسان

اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT

کوئی غیر ملکی طاقت ہمیں غلام نہیں بنا سکتی، بھارتی کسان

کسان نمائندوں نے امریکی دباؤ خصوصاً بھارت کی زرعی اور ڈیری مارکیٹوں تک رسائی کے معاملے پر مودی حکومت کے مضبوط مؤقف کی تعریف کی۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے مختلف حصوں سے کسان رہنما اور کاشتکار دہلی میں جمع ہوئے تاکہ نریندر مودی کا شکریہ ادا کریں، جنہوں نے ان کے بقول بھارتی زراعت کو عالمی تجارتی مذاکرات میں محفوظ رکھنے کے لئے ایک "تاریخی اور بہادرانہ" فیصلہ کیا۔ اس اجلاس میں درجن بھر سے زائد کسان تنظیموں کے رہنما شریک ہوئے۔ کسان نمائندوں نے امریکی دباؤ خصوصاً بھارت کی زرعی اور ڈیری مارکیٹوں تک رسائی کے معاملے پر مودی حکومت کے مضبوط مؤقف کی تعریف کی۔ انڈین فارمر چودھری چرن سنگھ آرگنائزیشن کے قومی صدر دھرمیندر چودھری نے کہا کہ نریندر مودی نے کسانوں، مویشی پالنے والوں اور ماہی گیروں کے مفاد میں ایک غیر متزلزل مؤقف اختیار کیا ہے، یہ وژن کروڑوں لوگوں کے لئے راحت کا باعث ہے اور دیہی بھارت کی خود کفالت کو مضبوط بناتا ہے۔

چھتیس گڑھ کے یوتھ پروگریسیو فارمرز ایسوسی ایشن کی نمائندگی کرتے ہوئے وریندر لوہان نے کثیرالقومی مفادات کے خلاف حکومت کے مؤقف کی تعریف کی اور کہا "امریکی کمپنیوں کو ہماری زراعت اور ڈیری سیکٹر میں داخل نہ ہونے دینے کا بہادرانہ فیصلہ اب ہر کھیت، ہر گاؤں اور ہر گوٹھ میں گونج رہا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی کسان اس قوم کی روح ہے اور کوئی غیر ملکی طاقت کبھی بھی اس روح پر قابو نہیں پا سکتی۔ اپنے خطاب میں یونین کے وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے کہا کہ حکومت جعلی کھاد، بیج اور کیڑے مار ادویات کے خلاف سخت قانون لائے گی۔ انہوں نے کسانوں کی فلاح و بہبود اور دیہی ترقی سے متعلق مودی کے عزم کو دہرایا۔ چوہان نے مودی کے قومی مفاد پر مبنی مؤقف کی تعریف کرتے ہوئے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدہ منسوخ کرنے کے فیصلے کو فیصلہ کن قیادت کی ایک اور مثال قرار دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مؤقف کی تعریف

پڑھیں:

پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری کر دیئے گئے۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق 6لاکھ 32ہزار کاشتکاروں نے 2ارب 54کروڑ روپے کے قرض استعمال کرلئے،گندم کے سیزن میں کاشتکاروں نے 100ارب کی زرعی مداخل خریدیں،کسان کارڈ کے ذریعے خریف کی فصل کیلئے 90ارب روپے دیئے گئے،کاشتکاروں نے 57ارب روپے کی اقساط ادا کردیں،3لاکھ کاشتکاروں نے 30ارب کے زرعی مداخل کسان کارڈ کے ذریعے حاصل کئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کاکہناتھا کہ کسان کارڈ کے ذریعے کاشتکار کی قسمت بدل رہی ہے،پنجاب کا کاشتکار اب کسی آڑھتی کا مقروض نہیں،پنجاب کے کاشتکار کو خودمختار اورخوشحال دیکھنا میرا خواب ہے،کاشتکاروں نے قرض کی بروقت ادائیگی سے مثال قائم کی ہے۔

کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار مقرر کرنے کی سفارش

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں 8لاکھ 32ہزار سے زائد کاشتکاروں کو کسان کارڈ جاری
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا