’یہ شرمناک اور بے ہودہ ہے‘، بھارتی فوجی قیادت کو ٹی وی شو پر آنا مہنگا پڑگیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
بھارت کے لیجنڈری اداکار امیتابھ بچن کے رئیلٹی شو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں بھارت کے یوم آزادی کے حوالے سے ریکارڈ کیے گئے شو کی ایک جھلک دکھائی گئی ہے۔
شو میں کرنل صوفیہ قریشی، ونگ کمانڈر ویومیکا سنگھ اور کمانڈر پرینا دیوسھالی کو خوش آمدید کہا گیا۔ کلپ کا آغاز کرنل صوفیہ کے ساتھ ہوا جو ہاٹ سیٹ پر بیٹھی تھیں۔ امیتابھ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’پاکستان یہ کرتا چلا آ رہا ہے۔ تو جواب دینا بنتا تھا سر۔ اسی لیے آپریشن سندور کو پلان کیا گیا‘۔ امیتابھ نے ان کی بات سنی اور سر ہلا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ’سندور بن گیا تندور‘، بھارت کے آپریشن سندور پر پاکستانی صارفین کے دلچسپ تبصرے
یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تو صارفین اس کا مذاق اڑاتے نظر آئے، پاکستانی صارفین کا کہنا تھا کہ جنگ ہارنے کے بعد یہ ٹی وی شو پر پاکستان سے مقابلہ کریں گے جبکہ بھارتی صارفین نے مودی کی سیاست کو شرمناک اور بےہودہ قرار دیا۔
ایک بھارتی صارف نے کہا کہ کیا آپ نے کبھی کسی سنجیدہ ملک میں فوجی کارروائی کے بعد اس طرح کی کوئی بات دیکھی ہے؟ یہ کس طرح ممکن ہے کہ کسی حاضر سروس شخص کے لیے اس سب کی اجازت دی جائے؟
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت بے شرمی کے ساتھ ہمارے فوجیوں کو اپنی چھوٹی موٹی سیاست اور حد سے زیادہ قوم پرستی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
Have you ever seen anything like this after a military operation in any serious country?
How is this even allowed for someone in service?
The current regime is shamelessly using our forces for its petty politics and hyper nationalism.
— Mohit Chauhan (@mohitlaws) August 12, 2025
ایک صارف نے کہا کہ ہم ایک فوجی آپریشن کو ’کون بنے گا کروڑ پتی‘ جیسے شو پر فلم کی طرح کیوں پروموٹ کر رہے ہیں۔ یہ بہت عجیب ہے۔
this is weird..why are we promoting a millitary operation like a movie on KBC..embarrassing https://t.co/20AX0Emtcq
— Radical Centrist (@swatantra54) August 13, 2025
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ تین مسلح افواج کے افسر مکمل وردی میں ایک نجی تفریحی چینل کے گیم شو میں شرکت کریں گے اور ایک بالی ووڈ اداکار کو یہ سمجھائیں گے کہ ایک فوجی آپریشن کیوں ترتیب دیا گیا تھا۔ کوئی سنجیدہ ملک ایسی اجازت نہیں دیتا، مگر یہ نیا بھارت ہے، نریندر مودی کی قیادت میں۔
Three Officers of the Armed Forces will attend a game show in a private entertainment channel, dressed in full uniform and explain to a Bollywood star why a Military Operation was planned. No serious country will permit this but then this is New India under Narendra Modi pic.twitter.com/QAofpQpjJV
— Joy (@Joydas) August 12, 2025
ڈاکٹر یادیو نے لکھا کہ یہ حکومت اب تک کی سب سے بے شرم حکومت ہے۔ انہوں نے ہماری فوجی جوانوں کو مودی کی پی آر کے لیے ایک ٹی وی شو میں بھیجا ہے جو شرمناک بات ہے۔
This govt is most shameless govt ever.
They have sent our army personnels to a TV show for Modi’s PR.
Pathetic
pic.twitter.com/SLb8adTnil
— Dr Nimo Yadav 2.0 (@DrNimoYadav) August 12, 2025
سعدیہ خالد نے لکھا کہ آپریشن سندور والے بیانیے کی شکست کا اتنا خوف کہ مودی نے اپنی تینوں افواج کے افسران مکمل یونیفارم میں آپریشن سندور کی جھوٹی بالی ووڈ اسٹوری سنانے پرائیویٹ چینل کے پلانٹڈ ٹی وی شو پر پہنچا دیے۔
پاکستانی ISPR سے بیانئے کی شکست نے مودی کی مت مار دی!
آپریشن سیندور والے بیانئے کی شکست کا اتنا خوف کہ جوکر مودی نے اپنی تینوں افواج کے افسران مکمل یونیفارم میں آپریشن سیندور کی جھوٹی بالی ووڈ سٹوری سنانے پرائیویٹ چینل کے پلانٹڈ ٹی وی شو پر پہنچا دئیے ???? pic.twitter.com/QbbfbSD9yo
— Sadia Khalid (@SadiasOfficial) August 13, 2025
راجہ عاصم نے کہا کہ انڈین آرمی آفیسرز پاکستان سے جنگ ہارنے کے بعد کون بنے گا کروڑ پتی پروگرام میں شرکت کررہے ہیں اس ٹی وی پروگرام میں پاکستان سے مقابلہ کریں گے۔
انڈین آرمی آفیسرز پاکستان سے جنگ ہارنے کے بعد کون بنے گا کروڑ پتی پروگرام میں شرکت کررہے ہیں اس ٹی وی پروگرام میں پاکستان سے مقابلہ کریں گے
نان پروفیشنل آرمی یے عجیب اوٹ پٹانگ حرکتیں کررہے ہیں
انڈین عوام بھی کتنی بیوقوف جاہل یے
جنگ ہارنے کے بعد خوش ہےpic.twitter.com/1w16Oax4Ax
— Raja Asim (@rajaasim313) August 13, 2025
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آپریشن سندور بھارتی افواج پاکستانی افواج
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی افواج پاکستانی افواج ہارنے کے بعد ٹی وی شو پر پاکستان سے نے کہا کہ کریں گے مودی کی کے لیے
پڑھیں:
امریکی کانگریس میں اہم بل، اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی ملنے کا امکان
امریکی کانگریس میں زیرِ غور ایک نئی دفاعی تجویز امریکا اور اسرائیل کے عسکری تعلقات کو غیرمعمولی حد تک مضبوط بنا سکتی ہے۔ اگر یہ شق قانون بن گئی تو دونوں ممالک نہ صرف اسلحہ سازی، تحقیق اور دفاعی ٹیکنالوجی میں مشترکہ طور پر کام کریں گے بلکہ ان کی دفاعی صنعتیں اور عسکری نظام پہلے سے کہیں زیادہ ایک دوسرے سے جڑ جائیں گے، جسے ماہرین امریکا اسرائیل تعلقات میں ایک تاریخی تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔
امریکی کانگریس میں پیش کیے گئے دفاعی بجٹ بل کی ایک اہم شق امریکا اور اسرائیل کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے کی راہ ہموار کر رہی ہے، جس کے تحت دونوں ممالک اسلحہ سازی، دفاعی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور عسکری نظاموں کے انضمام میں پہلے سے کہیں زیادہ قریبی شراکت داری قائم کر سکیں گے۔
’امریکا اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی تعاون اقدام‘ کے عنوان سے یہ تجویز مالی سال 2027 کے نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ (این ڈی اے اے) میں شامل کی گئی ہے، جو ہر سال امریکی دفاعی پالیسی، عسکری پروگراموں اور دفاعی اخراجات کے تعین کے لیے منظور کیا جاتا ہے۔ یہ تجویز ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے مسودے میں سیکشن 224 کے طور پر شامل ہے۔
اگر یہ شق حتمی طور پر قانون بن جاتی ہے تو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تعلقات محض امریکی فوجی امداد تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دونوں ممالک کی دفاعی صنعتیں اور عسکری ڈھانچے گہرے طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہو جائیں گے۔
مجوزہ قانون کے مطابق امریکی وزیر دفاع کو ایک خصوصی ’ایگزیکٹو ایجنٹ‘ مقرر کرنا ہوگا جو امریکا اور اسرائیل کے درمیان تمام فوجی تعاون کی نگرانی اور رابطہ کاری کا ذمہ دار ہوگا۔ اس کے دائرۂ کار میں مشترکہ تحقیق و ترقی، اسلحے کی مشترکہ تیاری، دفاعی نظاموں کا باہمی انضمام اور عسکری معلومات و ڈیٹا کا تبادلہ شامل ہوگا۔
امریکی محکمہ خارجہ کے سابق عہدیدار اور ’اے نیو پالیسی‘ نامی تنظیم کے بانی جوش پال نے اس تجویز پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اب ایسے طریقے تلاش کر رہی ہے جن کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو امریکی دفاعی صنعتی ڈھانچے میں اس قدر گہرائی تک شامل کر دیا جائے کہ مستقبل میں انہیں الگ کرنا تقریباً ناممکن ہو جائے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ مجوزہ قانون اسرائیل کو امریکی دفاعی ٹیکنالوجی تک غیرمعمولی رسائی فراہم کرے گا اور امریکی فوج کو اسرائیلی دفاعی نظام اپنی اہم عسکری سپلائی چین میں شامل کرنے کا پابند بنا دے گا، جس سے اسرائیل کو امریکی دفاعی ترجیحات پر بھی نمایاں اثر و رسوخ حاصل ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کا غزہ فنڈ خالی، اربوں دینے کا وعدہ کرنے والے ایک ڈالر بھی دینے کو تیار نہیں
امریکا اور اسرائیل اس وقت بھی مشترکہ طور پر کئی دفاعی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں، جن میں ’آئرن ڈوم‘ میزائل دفاعی نظام نمایاں ہے۔ تاہم نئی تجویز اس تعاون کو مصنوعی ذہانت (AI)، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر آپریشنز اور جدید جنگی نظاموں سمیت کئی نئے شعبوں تک وسعت دے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرقِ وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے۔ رواں سال فروری میں امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی تھی، جس کے بعد تقریباً پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی جنگ میں ایران نے اسرائیل اور خلیجی خطے میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بعد ازاں اپریل میں جنگ بندی عمل میں آئی۔
دوسری جانب اسرائیل کو غزہ میں جاری جنگ کے باعث بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔ جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں نسل کشی کا مقدمہ بھی دائر کر رکھا ہے۔
مجوزہ بل کو قانون بننے کے لیے پہلے ایوانِ نمائندگان کی آرمڈ سروسز کمیٹی سے منظوری حاصل کرنا ہوگی، جس پر جون کے اوائل میں غور متوقع ہے۔ اس کے بعد اسے ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ دونوں سے منظوری درکار ہوگی۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس تجویز کو کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین مائیک راجرز اور سرکردہ ڈیموکریٹ رکن ایڈم اسمتھ نے مشترکہ طور پر پیش کیا ہے، جس کے باعث اسے دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل ہے۔ تاہم حالیہ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام، خصوصاً ڈیموکریٹس اور بعض ریپبلکن حلقوں میں اسرائیل کے لیے مزید فوجی حمایت کی مخالفت بڑھ رہی ہے۔
امریکا کئی دہائیوں سے اسرائیل کی فوجی معاونت کا سب سے بڑا ذریعہ رہا ہے۔ 2008 سے امریکی قانون واشنگٹن کو اسرائیل کی ’معیاری عسکری برتری‘ برقرار رکھنے کا پابند بناتا ہے تاکہ خطے میں کوئی بھی حریف ملک عسکری اعتبار سے اس پر سبقت حاصل نہ کر سکے۔
سابق امریکی صدر باراک اوباما کے دور میں طے پانے والے موجودہ معاہدے کے تحت امریکا اسرائیل کو سالانہ تقریباً 3.8 ارب ڈالر کی فوجی امداد فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ دس سالہ معاہدہ 2028 تک نافذ العمل ہے۔
یہ بھی پڑھیے صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘
1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے اب تک وہ امریکی غیرملکی امداد کا سب سے بڑا وصول کنندہ رہا ہے۔ افراطِ زر کو مدنظر رکھا جائے تو امریکا کی مجموعی امداد 300 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، جس کا بڑا حصہ اب فوجی معاونت پر مشتمل ہے۔
تاہم اب اس تعلق کی نوعیت تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے حال ہی میں کہا تھا کہ ان کا ملک آئندہ دس برسوں میں امریکی فوجی امداد پر انحصار ختم کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسرائیل اب ایک بالغ اور خودمختار عسکری قوت بن چکا ہے۔
ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون اور مشترکہ ٹیکنالوجی پروگرام اسی حکمتِ عملی کا حصہ ہو سکتے ہیں، جن کے ذریعے مالی امداد کی جگہ صنعتی اور تکنیکی شراکت داری کو فروغ دیا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو