لاہور: آخری منٹ اسٹاپ پر ڈمپر کی رکشوں اور موٹرسائیکلوں کو ٹکر، طالبات سمیت 5 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 14th, May 2025 GMT
لاہور کے علاقے باغبان پورہ میں آخری منٹ اسٹاپ کے قریب ڈمپر نے کئی رکشوں اور موٹرسائیکلوں کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے 5 افراد جاں بحق ہوگئے۔
رپورٹ کے مطابق ریسکیو حکام نے کہا کہ حادثہ لاہور کے علاقے باغبان پورہ کے جی ٹی روڈ پر پیش آیا جس دوران ڈمپر نے 3 رکشوں اور 2 موٹرسائیکلوں کو ٹکر ماردی۔
ریسکیو حکام کا بتانا ہے کہ حادثے کے نتیجے میں 5 افراد جاں بحق اور 4 افرادزخمی بھی ہوئے۔
حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 2 اسکول کی بچیاں بھی شامل ہیں، جاں بحق ہونے والے اسکول کی بچیوں کی شناخت 12 سالہ عائمہ اور 10 سالہ حافظہ کے ناموں سے ہوئی، جاں بحق میں 45 سالہ رفاقت، 41 سالہ داود اور ایک شخص کی شناخت نا ہو سکی۔
زخمی ہونے والوں میں 26 سالہ علی، 10 سالہ افان، 10 سالہ بلال، 18 سالہ کومل شامل ہیں، زخمی ہونے والوں کو سروسز اور قریبی نجی ہسپتال منتقل کیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔