جیمز فرتھ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ہم خیال ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ برطانوی حکومت اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ براہ راست مداخلت کر کے پاکستان اور بھارت کو آمادہ کریں کہ وہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جلد ازجلد مسئلہ کشمیر کا دیرپا اور پرامن حل نکالیں اسلام ٹائمز۔ برطانیہ میں بری نارتھ سے رکن پارلیمنٹ جیمز فرتھ نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا حل تلاش نہیں کیا جاتا، برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی دونوں ایٹمی ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جیمز فرتھ نے کہا کہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق جلدازجلد ان کا حق خودارادیت دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں رائے شماری کروائی جائے اور ریاست جموں و کشمیر کے دونوں اطراف کی قیادت کو متفقہ طور پر حتمی فیصلہ کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔جیمز فرتھ نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ جولائی کے وسط میں برطانوی پارلیمنٹ میں کانفرنس منعقد کروا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے ہم خیال ارکان پارلیمنٹ کے ہمراہ برطانوی حکومت اور وزیر خارجہ سے مطالبہ کریں گے کہ وہ براہ راست مداخلت کر کے پاکستان اور بھارت کو آمادہ کریں کہ وہ سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے جلد ازجلد مسئلہ کشمیر کا دیرپا اور پرامن حل نکالیں تاکہ برطانیہ میں بسنے والے دس لاکھ سے زائد کشمیریوں کو اپنے خاندانوں کے حوالے سے لاحق تشویش اور خدشات سے نجات دلائی جا سکے اور وہ برطانیہ کی معاشی، سیاسی اور سماجی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کر سکیں۔

بانی چیئرمین جموں و کشمیر تحریک حق خودارادیت انٹرنیشنل راجہ نجابت حسین نے اس موقع پر بری سے منتخب ہونے والے دونوں ارکان پارلیمنٹ، عوام، کونسلروں اور نارتھ آف انگلینڈ کے ان تمام کشمیر دوست اراکین پارلیمنٹ اور کونسلروں کا شکریہ ادا کیا جو مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لئے اپنا کلیدی کردار ادا کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کشمیر کے بارے میں کل جماعتی پارلیمانی گروپ کے چیئرمین بیرسٹر عمران حسین، ڈیبی ابراھمز، طاہر علی، افضل خان، محمد یاسین، سارہ اوون، رچرڈ ہوپکنز، سارہ سمتھ، ابتسام محمد، ناز شاہ اور دیگر ارکان پارلیمنٹ کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں کشمیریوں کی بھرپور نمائندگی کی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ ارکان پارلیمنٹ اور برطانوی حکومت مسئلہ کشمیر کو حل کروانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ جنگ کے خاتمے کے بعد دنیا کو موقع ملا ہے کہ وہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرے اور مسئلہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات اور اقوام متحدہ کی منظور شدہ قراردادوں کے مطابق حل کرے۔ اس موقع پر شاہینہ ہارون راجہ اور تیمور طارق سمیت حلقہ بری کے کونسلرز، سابق میئرز، ڈپٹی میئرز اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پاکستان اور بھارت ارکان پارلیمنٹ مسئلہ کشمیر جیمز فرتھ نے کہا کہ انہوں نے کشمیر کے

پڑھیں:

کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں

لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ