سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں جی سی سی امریکا سربراہی اجلاس سے ولی عہد محمد بن سلمان نے خطاب کیا۔

عرب میڈیا کے مطابق اپنے خطاب میں سعودی ولی عہد نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

انھوں نے پاک بھارت جنگ بندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں کشیدگی میں کمی لانے اور امن بحال کرنے میں مدد ملے گی۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے پاک بھارت سیز فائر کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔

سعودی ولی عہد نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کے فروغ کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کلیدی کردار ادا کیا ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن کے لیے بھرپور حمایت کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے پائیدار حل پر بھی زور دیا۔

سعودی عرب کے ولی عہد نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ دونوں ممالک جنگ بندی کا احترام کرتے ہوئے امن بحال رکھیں گے۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے دوسرے دور اقتدار کے مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے میں سعودی عرب پہنچے تھے۔

جہاں امریکی صدر نے ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور ان کی موجودگی میں شام کے عبوری صدر احمد الشرع سے بھی بات چیت کی۔

بعد ازاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ قطر پہنچے اور قطری امیر تمیم بن حمد سے ملاقات کی۔ امریکی صدر کی اگلی منزل متحدہ عرب امارات ہے۔

تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ مشرق وسطیٰ کے 4 روزہ اس اہم دورے میں اسرائیل نہیں جائیں گے۔

 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ولی عہد محمد بن سلمان

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • آبنائے ہرمز میں ہر حملے کے بدلے ایک پل یا پاور پلانٹ تباہ کریں گے، ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل