کائنات اندازہ لگائے گئے وقت سے پہلے ختم ہونے والی ہے، سائنسدانوں کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
نیدرلینڈ(اوصاف نیوز)کائنات کے خاتمے کی یہ نئی ممکنہ مدت اب بھی انسانی تصور سے باہر ہے مگر یہ تحقیق ہمیں کائناتی ڈھانچوں اور کائنات کے طویل مدتی انجام کے بارے میں نئے نظریات فراہم کرتی ہے۔
نیدرلینڈز کی ریڈبوڈ یونیورسٹی کے محققین کی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ کائنات اپنے انجام کو اس وقت سے کہیں پہلے پہنچ سکتی ہے جتنا پہلے سائنسدانوں نے اندازہ لگایا تھا۔ یہ تحقیق ”جرنل آف کاسمولوجی اینڈ آسٹروپارٹیکل فزکس“ میں شائع ہوئی ہے۔
ماضی میں خیال کیا جاتا تھا کہ کائنات تقریباً 10110010^{1100} سال تک باقی رہے گی مگر نئی تحقیق کے مطابق یہ مدت محض 107810^{78} سال ہو سکتی ہے، جو کہ اگرچہ انسانی نقطہ نظر سے انتہائی طویل ہے لیکن سائنسی اندازوں کے لحاظ سے بہت مختصر ہے۔
یہ تحقیق مشہور سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کے بلیک ہولز کے بخارات بننے کے نظریے یعنی ”ہاکنگ ریڈی ایشن“ پر مبنی ہے۔ محققین ہینو فالکے، مائیکل وونڈراک، اور والٹر وان سُویلیکم نے اس نظریے کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ نہ صرف بلیک ہولز بلکہ تمام بھاری اجسام جیسے وائٹ ڈوارف اور نیوٹران ستارے بھی وقت کے ساتھ ساتھ بخارات بن کر ختم ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ عمل بھی ہاکنگ ریڈی ایشن جیسا ہی ہوگا اور اس میں اسپیس ٹائم کی خمداری (curvature) اہم کردار ادا کرے گی۔
پروفیسر والٹر وان سُویلیکم کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق فلکیات، کوانٹم فزکس اور ریاضی کے درمیان شاندار اشتراک کا نتیجہ ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا: ”جب ہم ایسے سوالات اٹھاتے ہیں اور غیرمعمولی صورتوں پر غور کرتے ہیں تو ہمیں نظریات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملتا ہے اور شاید ایک دن ہم ہاکنگ ریڈی ایشن کے اسرار کو مکمل طور پر سمجھ لیں۔“
وادی نیلم :شاہکوٹ سیکٹر پر بھارتی فوج کا حملہ، خاتون شہید، متعدد مکانات تباہ
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: یہ تحقیق
پڑھیں:
شانگلہ: مکان کی چھت گرگئی، 6بچے جاں بحق
( ملک رحمان)صوبہ خیبر پختونخوا کے پہاڑی ضلع شانگلہ میں ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے جس میں ایک مکان کی چھت گرنے سے 6 بچے جاں بحق ہو گئے ہیں۔
یہ واقعہ ضلع شانگلہ کی تحصیل الپورئی میں پیش آیا، جس میں گزشتہ رات مکان کی چھت اچانک ڈھہ گئی اور گھر میں موجود بچے ملبے تلے دب گئے، واقعے میں ایک بچہ زخمی بھی ہو گیا ہے، جسے طبی امداد دی جا رہی ہے۔
مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبے سے تمام لاشیں اور زخمی بچی کو نکال لیا ہے، جاں بحق بچوں میں ناظرہ، سمیرا، رضوان، نایاب، حیا نور اور عمیرہ بی بی شامل ہیں، جن کی عمریں 5 سے 14 سال کے درمیان ہیں۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
پولیس کا کہنا ہے کہ جاں بحق ہونے والے بچوں کے والد جہان بشر کا کچھ ہی عرصہ قبل انتقال ہوا تھا، اور ان کا مکان کچا تھا۔ مرنے والوں میں پانچ لڑکیاں اور ایک لڑکا شامل ہیں۔