برطانیہ کے محکمہ ٹیکس نے نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے دیوالیہ پن کو ختم کردیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, May 2025 GMT
برطانیہ کے محکمہ ٹیکس نے نواز شریف کے صاحبزادے حسن نواز کے bankruptcy کو ختم کردیا۔
رپورٹ کے مطابق بینک کرپسی کی مدت مکمل ہونے کے بعد اب حسن نواز دوبارہ کمپنی ڈائریکٹر بن کر معمول کے مطابق کاروبار کے اہل ہوگئے، سرکاری رکارڈ کے مطابق حسن نواز کے دیوالیہ پن کی مدت 29 اپریل 2025 کو ختم ہوئی۔
محکمہ ٹیکس نے تصدیق کی کہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہونے کے سبب حسن نواز کا دیوالیہ پن ختم ہوا ہے، دو ماہ قبل ایچ ایم آر سی نے حسن نواز کی طرف سے خود کو دیوالیہ ہونے کی اطلاع دی تھی۔
حسن نواز نے تقریبا 10 ملین پاؤنڈ کا ٹیکس ادا نہ کرنے کے سبب دیوالیہ پن اختیار کیا تھا۔
حسن نواز نے مؤقف دیا کہ تمام ٹیکسوں کی ادائیگی کے باوجود ایچ ایم آر سی نے ایک خاص مدت گزر جانے کے باوجود ٹیکس کا مطالبہ کیا تھا۔
گزشتہ برس سرکاری گزٹ میں حسن نواز کے دیوالیہ ہونے کی تفصیلات شائع کی گئی تھیں
دیوالیہ پن ختم ہونے کے قانونی طور پر قرضوں کی ادائیگی کی ضرورت نہیں رہتی اور قرض لینے والوں کو قرض کی واپسی سے روک دیا جاتا ہے۔
میڈیا کے بعض حلقوں نے منفی انداز میں رپورٹنگ کر کے حسن نواز شریف کے کاروباری معاملات کو غکط رنگ دیا تھا، دوران تفتیش برطانوی محکموں نے اس حوالے سے زیرو کرپشن اور زیرو بد انتظامی دیکھی۔
Post Views: 4.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: حسن نواز کے دیوالیہ پن
پڑھیں:
بجٹ 2026-27: جائیداد کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں بڑی کمی کی تجویز
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ(Budget) میں جائیداد کی خرید و فروخت پر عائد ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی تجاویز تیار کر لی ہیں، جن کا مقصد ریئل اسٹیٹ اور تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کو فروغ دینا اور معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کرنا ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ تجاویز کے تحت فائلرز کے لیے غیر منقولہ جائیداد کی خریداری پر عائد ٹیکس کی شرح موجودہ 1.5 فیصد سے کم کر کے 0.25 فیصد کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح جائیداد کی فروخت پر عائد ٹیکس کو 4.5 فیصد سے کم کر کے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت ان اقدامات کے ذریعے پراپرٹی مارکیٹ میں موجود جمود کو ختم کرنا چاہتی ہے تاکہ خرید و فروخت کی سرگرمیوں میں اضافہ ہو اور تعمیراتی شعبہ دوبارہ متحرک ہو سکے۔
تاہم ان تجاویز پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔ ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف ٹیکسوں میں مجوزہ کمی کی مخالفت کر رہا ہے اور اسے حکومتی آمدن پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔
مزیدپڑھیں:بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
حکومتی حکام کا مؤقف ہے کہ ٹیکس شرحوں میں کمی سے جائیداد کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں لین دین کا حجم بڑھنے سے مجموعی ٹیکس وصولیوں میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ حکومت کا یہ بھی خیال ہے کہ تعمیراتی سرگرمیوں کے فروغ سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کے مختلف شعبوں کو فائدہ پہنچے گا۔
ذرائع کے مطابق ان تجاویز کے حتمی خدوخال آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد آئندہ بجٹ میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔