خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں ترقیاتی کاموں کے لیے مختص فنڈز میں اربوں روپے کی کرپشن کے معاملے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، اکاؤنٹنٹ جنرل (اے جی) خیبرپختونخوا نے محکمہ خزانہ کے 10 افسران اور اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کر دی ہے۔

نجی ٹی وی کے مطابق اکاؤنٹنٹ جنرل خیبرپختونخوا کے دفتر نے مشکوک افراد اور مشتبہ بینک اکاؤنٹس کی نشاندہی کر دی، اے جی آفس نے مبینہ کرپشن میں محکمہ خزانہ کے 10 اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کے لیے سیکریٹری خزانہ کو خط لکھ دیا ہے۔

خط میں اسسٹنٹ اور سب اکاؤنٹنٹس اور 52 مشکوک بینک اکاؤنٹس کی بھی نشاندہی کی گئی، خط میں ضلعی اکاؤنٹس افسر اپر کوہستان کو فوری معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

اے جی آفس کے مطابق نیب کو موصول ہونے والے 1293 چیکس کا ریکارڈ ہی موجود ہی نہیں، جعلی چیکس کا اے جی دفتر سے کوئی سروکار نہیں، ریکارڈ اصلی چیکس کا رکھا جاتا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی چیکس بنانے کی ذمہ داری نیشنل بینک اور سی اینڈ ڈبلیو ہے۔

مشکوک رقم 3 ارب 47 کروڑ 37 لاکھ 19 ہزار 155 روپے کی نشاندہی بھی خط میں کی گئی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اپر کوہستان میں کرپشن کی کُل رقم 29 ارب روپے ہے۔

یاد رہے کہ خیبرپختونخوا کے ضلع کوہستان میں ترقیاتی منصوبوں کی رقم نجی بینک اکاؤنٹس میں منتقل کیے جانے کے انکشاف کے بعد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور نے مبینہ کرپشن اسکینڈل کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

Post Views: 3.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کی سفارش

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل، 5 جون کو پیش نہیں ہو گا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • پنجاب میں انسداد ڈینگی کارروائیوں کیلئے افسران کو فوری متحرک ہونے کی ہدایت