پارٹی کا طرز عمل حکمراں جماعت کی بقا کے لئے نہایت اہم ہے، چینی صدر WhatsAppFacebookTwitter 0 15 May, 2025 سب نیوز

بیجنگ :چھیوشی میگزین کے جمعہ کے روز شا ئع ہو نے والےدسویں شمارےمیں سی پی سی سینٹرل کمیٹی کے جنرل سیکریٹری، چین کے صدر اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے چیئرمین شی جن پھنگ کا ایک اہم مضمون شائع ہوگا، جس کا عنوان ہے” مرکزی کمیٹی کی جانب سے آٹھ نکاتی قواعد پر مستقل طور پر عمل کیا جائے اور عمدہ طرز عمل کے ذریعے سماجی ماحول کو بہتر بنایا جائے”۔مضمون میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پارٹی کا طرز عمل حکمراں جماعت کی بقا کے لئے نہایت اہم ہے۔

پارٹی کے طرز عمل کی تعمیر کمیونسٹ پارٹی آف چائنا کی طویل المدتی اور احسن حکمرانی سے وابستہ ہے۔  مضمون میں شی جن پھنگ  نے لکھا ہے کہ سی پی سی کی اٹھارہویں قومی کانگریس کے بعد سے ہم نے پارٹی کے اندر طر ح طرح کے مسائل اور خامیوں کا سامنا کرتے ہوئے مرکزی کمیٹی کی جانب سے آٹھ نکاتی قوائد کے اجرا ء کے ذریعے پارٹی کے جامع اور سخت انتظام کو آگے بڑھایا، جس کی بدولت پارٹی کے  طرز عمل  میں اب   نیا روپ دکھائی دے رہا ہے ،

سماجی ماحول میں مسلسل بہتری دیکھنے میں آرہی ہے اور عوام کے دلوں میں پارٹی کےتشخص کی ازسر نو تعمیر ہو گئی ہے۔ مضمون میں نشاندہی کی گئی ہے کہ طرز عمل کا مسئلہ بنیادی طور پر پارٹی کی نوعیت سے وابستہ ہے۔ طرز عمل کی تعمیر ہمیشہ  جاری رہتی ہے  اور کبھی ختم نہیں ہوتی۔ سی پی سی سینٹر ل کمیٹی نے پوری پارٹی  میں  مرکزی کمیٹی کی جانب سے آٹھ نکاتی قواعد پر گہرائی کے ساتھ عمل درآمد کرنے کی تعلیم و تربیت کا جو فیصلہ کیا ہے، وہ رواں سال پارٹی کے اہم فرئض میں سے ایک ہے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کا امریکہ سے 232 ٹیرف اقدامات کو جلد از جلد  بند کرنے کا مطالبہ چین کا امریکہ سے 232 ٹیرف اقدامات کو جلد از جلد  بند کرنے کا مطالبہ چین کی برازیل سمیت 5 ممالک کے لیے ویزا فری پالیسی کا آزمائشی اطلاق یکم جون 2025 سے  ہو گا،چینی وزارت خارجہ چینی وزارت تجارت کی جانب سے  برآمدی کنٹرول لسٹ کے بارے میں صحافیوں سے بات چیت چین کی جانب سے17 امریکی اداروں کو نا قابل اعتماد اداروں کی فہرست میں شامل کرنے کا اقدام معطل چین میں رواں سال ریزرو ریکوائرمنٹ ریشو میں پہلی کمی کا نفاذ کیا گیا چین غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ایک مثالی سرمایہ کاری کی منزل رہے گا، چینی صدر TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

پڑھیں:

کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار

کراچی:

شہر قائد میں ہل پارک کے اطراف پہاڑی علاقے کو کاٹ کر کی جانے والی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف رات گئے بڑا آپریشن کیا گیا جس میں ہیوی مشینری کی مدد سے متعدد تعمیرات کو مسمار کر دیا گیا۔

میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر شروع ہونے والی اس کارروائی کے دوران متنازعہ پلاٹ پر بنی باؤنڈری وال سمیت کئی غیرقانونی ڈھانچے گرا دیے گئے۔ کارروائی ڈائریکٹر انکروچمنٹ شیر علی کی نگرانی میں محکمہ لینڈ کے عملے نے انجام دی۔

ترجمان کے ایم سی کے مطابق ہل پارک کے اطراف سے تمام غیرقانونی تعمیرات کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور علاقے کو تجاوزات سے مکمل طور پر صاف کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب میئر کراچی نے سیکریٹری وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو خط لکھ کر پلاٹ نمبر 39 جی فور بلاک 6 کا مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ پلاٹ کے حوالے سے پی ای سی ایچ ایس کی جانب سے لیز دینے کے دعوے سامنے آ رہے ہیں جس پر مزید جانچ پڑتال جاری ہے۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ شہر میں غیرقانونی تعمیرات کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی تاکہ سرکاری و محفوظ علاقوں پر قبضے کی کسی بھی کوشش کو روکا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • کفایت شعاری اقدامات، حکومت نے مارکیٹوں اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں توسیع کردی گئی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کا پاکستان کو جیت کیلئے 232 رنز کا ہدف
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟